1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی کشمیریوں کا فیس بُک کے ذریعے احتجاج

انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم تنظیموں کے مطابق بھارتی پولیس کشمیر کے مظاہروں کی تصاویر انٹرنیٹ ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر جاری کرنے والوں کو ہراساں کر رہی ہے۔

default

کشمیر میں سترہ نو عمر لڑکوں کی مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں شدت دیکھی جارہی ہے۔

نوجوان کشمیری دنیا کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے سماجی رابطوں کی امریکی ویب سائٹ ’فیس بک‘ اور ویڈیو ویب سائٹ ’یو ٹیوب‘ کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔

کولیشن آف سول سوسائٹی نامی کشمیری تنظیم کے رابطہ کار خرم پرویز کے بقول حکام سڑکوں پر کیا جانے والا احتجاج تو دُور کی بات، تخیلاتی دنیا یعنی انٹرنیٹ پر بھی احتجاج کو برداشت نہیں کررہے۔ ‘

Kaschmir Auschreitungen Gewalt Proteste

کشمیری صحافیوں کا احتجاج

انہوں نے کہا، کشمیر میں جمہوری انداز سے اظہار رائے کے تمام راستے بند کئے جارہے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ فیس بک استعمال کرنے والے بعض افراد کو تھانوں  میں پیش ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔

کریک ڈاؤن کا مرکز جنوبی ضلع اننت ناگ ہے جہاں پولیس پر تین نوجوانوں کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ یہ واقعات گزشتہ ماہ پیش آئے تھے۔

پولیس حکام البتہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ مقامی پولیس عہدیدار شوکت احمد کے بقول فیس بک استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کو تھانے میں پیش ہونے کے لئے نہیں کہا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا البتہ دعویٰ ہے کہ بعض کشمیری نوجوان پولیس کے خوف سے اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ایسے ہی ایک ستائیس سالہ لڑکے کے بقول، ’پولیس اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ فیس بک یا یو ٹیوب استعمال کرنے پر ہمارے خلاف قانونی کارروائی تو نہیں کی جاسکتی تاہم اگر مظاہروں کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو دیگر سنگین جرائم میں پھنسا دیا جائے گا۔

Facebok Logo

کشمیر میں فیس بُک کے بعض صارفین نے پولیس کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا الزام لگایا ہے

خیال رہے کہ ایسی ہی صورتحال ایران میں حکومت مظالف مظاہروں کے دوران سامنے آئی تھی۔ متنازعہ ہوجانے والے صدارتی انتخاب میں صدر احمدی نژاد کے مخالفین نے سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی ویڈیوز ان ہی انٹرنیٹ ویب سائٹس پر جاری کی تھیں۔

کشمیر کے حوالے سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی مرکزی حکومت نے ملک کے دیگر حصوں سے کشمیر بھیجے جانے والے موبائل پیغامات ’ایس ایم ایس‘ پر گزشتہ ماہ پابندی عائد کردی تھی۔  حکام مبینہ طور پر ان پیغامات کو مظاہرین کو منظم کرنے اور رائے عامہ قائم کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔ 1989ء سے بھارتی انتظام  کے خلاف جاری مزاحمت میں اب تک کشمیر میں لگ بھگ سینتالیس ہزار ہلاکتوں کا سبب بن چکی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM