1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کابینہ نے نیوکلیئر توانائی کے قانون کی منظوری دے دی

بھارتی کابینہ نے بالآخر قانون کے اس مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس سے غیرملکی نیوکلیئر گروپوں کے لئے بھارت میں ری ایکٹرز لگانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ اس قانون کو سِول لبرٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج بِل کا نام دیا گیا ہے۔

default

بھارت کے جونیئر وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پرتھوی راج چاوان کا کہنا ہے کہ قانون کے مسودے کی منظوری کے لئے اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’پارلیمنٹ میں اس بِل کی منظوری کے بعد آلات کی خریداری کے لئے مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا اور ہم سمجھوتوں پر دستخط ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔‘

بھارتی پارلیمان کی جانب سے اس بِل کی منظوری آئندہ ہفتے متوقع ہے اور یہ امریکہ کے ساتھ 2008ء میں طے پانے والے اس کے ایٹمی معاہدے کا ایک حصہ ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے ہی بھارت کو غیرملکی نیوکلیئر ٹیکنالجی تک رسائی ملی۔ تاہم جنرل الیکٹرک اور اس جیسی دیگر امریکی کمپنیاں کسی نئے قانونی ڈھانچے کی غیرموجودگی میں بھارت میں کام کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ وہ اس بات کی وضاحت بھی چاہتی تھیں کہ کسی حادثے کی صورت میں انہیں کتنا ہرجانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

USA Russland Abrüstung Barack Obama Pressekonferenz

امریکی صدر باراک اوباما نومبر میں بھارت جائیں گے

قبل ازیں ترتیب دیے گئے قانون کے مسودے کے ورژن کی نسبت، موجودہ بِل کے تحت کسی نیوکلیئر حادثے کی صورت میں ہرجانے کی رقم کو تین گنا تک بڑھا کر 32 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کر دیا گیا ہے۔ پرتھوی راج چاوان کا کہنا ہے کہ یہ قانون متاثرین کو آسان ادائیگیوں کی راہ ہموار کرے گا، جو اس قانون کا اصل مقصد ہے۔

خبررساں ادارے AFP نے تجزیہ کاروں کے حوالے اس قانون کو رواں برس نومبر کے لئے امریکی صدر باراک اوباما کے بھارت کے لئے طے دورے سے جوڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوباما جنوبی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس معیشت میں امریکہ کے کاروباری مفادات کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔

واضح رہے کہ فرانس اور روس کی سرکاری نیوکلیئر کمپنیاں بھی بھارتی منڈیوں میں شیئر کے حصول کے سرگرم ہیں اور وہاں پاور پلانٹس لگانے کے لئے معاہدے کر بھی چکی ہیں۔

چاوان کا کہنا ہے کہ ایٹمی توانائی بھارت کے لئے انتہائی اہم ہے اور حکومت کی ترجیح بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ کافی توانائی کے بغیر شرح نمو کی پائیداری ممکن نہیں۔ بھارتی وزیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے نیوکلیئر پروگرام میں توسیع غریبوں کو بجلی تک رسائی دینے کے لئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے 40 فیصد گھرانے آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں ایٹمی توانائی کی مارکیٹ کا حجم ڈیڑھ سو ارب ڈالر ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس