1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی کابینہ نے ریٹیل سیکٹر میں اصلاحات کی منظوری دے دی

بھارتی کابینہ نے ملک کے ریٹیل سیکٹر کو وال مارٹ اور ٹیسکو جیسے عالمی سپر مارکیٹ اداروں کے لیے کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ کنزیومر انڈسٹری کو نئی سمت دے گا۔

default

کابینہ میں اس حوالے سے بات چیت جمعرات کو ہوئی۔ وزارت خزانہ اور بیوروکریٹس کا ایک پینل اس کے لیے پہلے ہی رضامندی ظاہر کر چکا تھا۔

کابینہ نے اس حوالے سے جمعرات کے اجلاس میں 51 فیصد فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی منظوری دی ہے۔

غیرملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارتی صارفین کو مصنوعات کی براہ راست فروخت کا راستہ کھولنے کے لیے ایک عرصے سے لابی کر رہی ہیں۔ یوں وہ ایک ایسی ریٹیل مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہیں، جس کا گلوبل کنسلٹینسی فرم میکنزی کے مطابق سالانہ حجم ساڑھے چار ارب ڈالر ہے۔

ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے بورڈ ممبر گبسن ودامنی نے قبل ازیں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا: ’’اگر یہ تجویز منظور کر لی جاتی ہے، تو صارفین کو انتخاب کے بہت زیادہ مواقع حاصل ہو جائیں گے۔ مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے یہ سرحدوں سے آزاد دنیا بن جائے گی۔‘‘

اس تجویز کے حامیوں کے خیال میں مقامی ریٹیل مارکیٹ تک غیر ملکی کمپنیوں کو رسائی دینے سے خوراک کی فراہمی کے نظام میں بہتری آئے گی، اس کے نتیجے میں قیمتیں نیچے آئیں گی اور افراط زر کی شرح کم ہو گی، جو اس وقت دس فیصد کے قریب ہے۔

Manmohan Singh Indien Ministerpräsident

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ

اس کے نتیجے میں خوراک کے اسٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن کے طریقہ کار میں بھی جدت آئے گی۔ اشیائے خوراک کے گلنے سڑنے کا مسئلہ کم ہو جائے گا اور زیادہ سے زیادہ تازہ اشیاء کی دستیابی یقینی ہو سکے گی۔

دوسری جانب اس منصوبے کے ناقدین کو تشویش ہے کہ اس سے چھوٹے تاجروں کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارتی مارکیٹ بہت بڑی ہے اور اس میں سب کو حصہ مل سکتا ہے۔ بھارت کے لاکھوں کسانوں پر بھی اس پیش رفت کے منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کانگریس پارٹی کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں کمزور اور کرپشن کی شکار کابینہ کی جانب سے اس تجویز کی منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں پہنچنے پر بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس