1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی پنجاب: منشیات لو، ووٹ دو

بھارت بھر میں شمالی بھارتی ریاست پنجاب کی منفی پہچان کی ایک وجہ وہاں منشیات کا استعمال ہے۔ بھارتی پنجاب میں الیکشن سے قبل نشیئیوں کو نشہ آور اشیا کی سپلائی جا رہی ہے تا کہ امیدوار اُن کے ووٹ حاصل کر سکیں۔

Drogenmissbrauch in Indien (AP)

بھارتی پنجاب میں افیون بنانے کے لیے پوست ڈوڈے پودے سے اتارے جا رہے ہیں

بھارتی پنجاب پورے بھارت میں منشیات فروشی کے صدر مقام کی غیرمناسب شہرت رکھتا ہے۔اس ریاست میں منشیات کا دھندا عام ہے۔ گلی محلوں میں منشیات فروشوں کے اڈے اور ڈھیرے ہیں۔ کئی مکانوں کے اندر غیرقانونی شراب سازی کی بھٹیاں بھی قائم ہیں۔ بھارتی پنجاب اُن پانچ ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں چار فروری کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہو رہی ہے۔

انتخابی عمل کو پنجاب میں وہ افراد بہت پسند کرتے ہیں، جنہیں نشے کی لت ہوتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات کا موسم سب سے بہتر ہے کیونکہ ایک ایک ووٹ کے لیے سیاسی امیدوار اپنے اپنے حلقے کے ہر نشئی کو مفت منشیات فراہم کرتے ہیں۔ اِس باعث ہر نشئی الیکشن کا منتظر ہوتا ہے کیونکہ اُسے، اُس کا من پسند نشہ مفت اور سہولت کے ساتھ اکثر گھر پر ہی مہیا ہو جاتا ہے۔

نشے کی لت میں مبتلا ایسا ہی ایک شخص راجندر  ہے، جو انتخابی مہم سے قبل افیون کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا لیکن آج کل اُس کو ہر روز گھر پر منشیات فراہم کی جا رہی ہے تا کہ اُس کا ووٹ ضائع نہ ہو۔ راجندر جیسے ہزاروں افراد ہیں جو کھیت کھلیانوں میں محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ لوگ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔

Pakistan und Afghanistan Opium (DW/A. G. Kakar)

ہیروئن بنانے کے لیے کئی کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں

بھارت کے ایک سابق چیف الیکشن ایس وائی قریشی بتاتے ہیں کہ کمیشن کو سن 2012 میں احساس ہوا تھا کہ بھارتی پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران منشیات کا غیرمعمولی استعمال کیا جاتا ہے۔ قریشی کے مطابق ایک مرتبہ انتخابی مہم کے ایک ماہ کے دوران 55 کلوگرام ہیروئن اور 430 کلوگرام خشک پوپی یا کچی افیون برآمد کی گئی تھی۔ سن 2015 میں الیکشن کمیشن کے سروے کے مطابق 27 ملین کی ریاستی آبادی میں افیون کی لت میں مبتلا تین لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس شمالی بھارتی ریاست میں سب سے مقبول نشہ ہیروئن ہے اور اُس کے بعد افیون کی مانگ ہے۔ افیون کئی دیہات میں بھی کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور تیار کر لیتے ہیں۔ بطور دوا افیون کی تیاری کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے پرمٹ بھی جاری کیے جاتے ہیں اور اِس کی آڑ میں غیر قانونی دھندے کا سلسلہ بھی ڈھکے چھپے انداز میں جاری رکھا جاتا ہے۔ اس بھارتی علاقے میں دیسی شراب کی مانگ بھی بہت خیال کی جاتی ہے۔

بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں انتخابی مہم کے دوران قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں۔