1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی پارلیمان کا بجٹ اجلاس، ہنگامہ آرائی یقینی

بھارتی پارلیمان کا بجٹ اجلاس آج 23 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور یہ مئی کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے گا۔ صدر پرنب مکھرجی کی طرف سے تمام سیاسی جماعتو ں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کاسب سے اہم سیشن بجٹ اجلاس سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اسی اجلاس کے دوران مالیاتی بل، ریلوے بجٹ اوراگلے مالی سال کے لئے عام بجٹ بھی پیش کئے جاتے ہیں۔یہ سیشن 13 مئی تک جاری رہے گا۔ اس دوران تیس نشستیں ہوں گی اور بیس بل منظوری کے لئے پیش کئے جائیں گے۔

صدر پرنب مکھرجی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی ایوان زیریں(لوک سبھا) اور ایوان بالا (راجیہ سبھا) کے مشترکہ اجلاس سے روایتی خطاب کرتے ہوئے ملک میں عدم رواداری کے ماحول اور اظہار رائے کی آزادی پر زور زبردستی کے تنازع کے پس منظر میں تمام سیاسی جماعتوں کو نصیحت کی کہ وہ پارلیمنٹ کو ٹھپ کرنے کے بجائے ملک کے سامنے درپیش مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کو تلاش کریں۔ بھارتی صدر کے، مطابق پارلیمان عوام کی توقعات و خواہشات کی عکاسی کرتی ہے۔

Indien Parlament in Neu Delhi Lok Sabha

بھارتی پارلیمنٹ کا ایک اور بیرونی منظر


بھارتی صدر نے پٹھان کوٹ ایر بیس پر گذشتہ ماہ ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے کہا کہ ’’میری حکومت ملک کی سلامتی سے متعلق تمام چیلنجوں سے سختی سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے سخت او رموثر قدم اٹھائے جائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ حکومت، پاکستان کے ساتھ باوقار تعلقات استوار کرنے اور اس میں اضافے کے ساتھ ساتھ سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کرنے کے لئے تعاون کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

مودی حکومت بجٹ اجلاس کو پرامن طریقے سے جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو ، راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری اور لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے بھی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ الگ الگ میٹنگز میں سیشن کو پرامن انداز سے چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ تاہم اس بات کی امید بہت کم ہے کہ بجٹ اجلاس پرسکون رہے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اپوزیشن بجٹ سیشن میں مودی حکومت کو خاصل مشکل وقت دینے کی کوشش کرے گی۔

حکومت کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کو متحدہ طور پراٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے دہلی کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعے اور اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری، ہریانہ میں جاٹ برداری کی پرتشدد ریزرویشن تحریک ،جس میں پندرہ افرا د ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوچکے ہیں،حیدرآباد سنٹر ل یونیورسٹی میں دلت طالب علم روہت ویمولا کی خودکشی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اوربابری مسجد کے معاملات اٹھانے کی پلاننگ کیے ہوئے ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر وینکیا نائیڈو نے بالواسطہ طور پر اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر مسئلہ پر بحث کرانے کے لئے تیار ہیں لیکن ایوان کی کارروائی پرامن طور چلنے دیں کیوں کہ پارلیمنٹ ایسا فورم ہے جہاں ہر پارٹی کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے۔ وزیراعظم مودی نے بھی آج بجٹ اجلاس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں سے مثبت تعاون کی اپیل کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوکہ عام بجٹ، مالیاتی بل اور ریلوے بجٹ کو منظور کرانے میں حکومت کو شاید زیادہ پریشانی نہ ہو لیکن گڈس اینڈ سروسز ٹیکس(جی ایس ٹی) اور تحویل اراضی جیسے اہم بلوں کو پاس کرانا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ اقتصادی اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لحا ظ سے یہ دونوں بل مودی حکومت کے لئے وقار کا معاملے بن چکے ہیں۔