1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی پارلیمان میں خواتین اراکین کی نصف سینچری

بھارت میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ پچاس سے زائد خواتین حالیہ عا م انتخابات میں منتخب ہو کر پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا پہنچی ہیں۔

default

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مرتبہ 61 خواتین لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئی ہیں۔ یہ تعداد آزادی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 2004 کی لوک سبھا میں خواتین اراکین کی تعداد 45 تھی جو اراکین کی مجموعی تعداد کا صرف آٹھ اعشاریہ دو نو فیصد ہے۔

انیس سو نناوےمیں خواتین اراکین کی تعداد 49 تھی جب کہ خواتین کی سب سے کم تعداد انیس سو ستتّر میں تھی جب صرف 19 خواتین لوک سبھا پہنچنے میں کامیاب ہوسکیں۔ یہ اراکین کی مجموعی تعداد کا صرف 3.5 فیصد تھا۔

Wahlen Indien 2009 Shatrughan Sinha Hema Malini

مشہور بھارتی اداکارہ ہیما مالنی نے بھی انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر حصّہ لیا

اس کے علاوہ کبھی ایسا موقع نہیں آیا جب لوک سبھا میں خواتین کی تعداد 20 سے کم رہی ہو۔ ان کی تعداد بالعموم 40 سے زیادہ ہی رہی۔ 1984 میں 42 خواتین لوک سبھا پہنچیں، 1996 میں 40 اور 1998 میں 43 خواتین لوک سبھا پہنچ سکیں۔

اس مرتبہ 556 خواتین نے الیکشن میں اپنی قسمت آزمائی تھی۔ ان میں سے کامیاب ہونے والی خواتین میں سے 23 کا تعلق کانگریس پارٹی سے اور 13 کابھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے جب کہ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی چار چار خواتین پارلیمان کے لئے منتخب ہوئیں۔ جنتا دل، شرومنی اکالی دل اور نیشلسٹ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو دو خواتین پارلیمنٹ پہنچی ہیں۔ ان کی علاوہ تلنگا راشٹریہ سمیتی، راشٹریہ لوک دل، شیو سینا، دراوڑ مونیتر کزگم اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی ایک ایک خاتون پندرہویں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئی ہیں۔

Indien Parlamentswahlen 2009

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی

لیکن یہاں یہ خیال عام ہے کہ سیاست میں زیادہ تر وہی خواتین آتی ہیں جن کا پس منظر سیاسی ہوتا ہے۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کی ٹکٹ پر چھتیس گڑھ کے درگ حلقے سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے والی سروج پانڈے اس سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کالج کی صدر رہی ہیں اور بعد میں وہ یونیورسٹی کی صدر بھی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا اگر موقع دیا جائے تو خواتین یقینی طور پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتی ہیں۔

عورتوں کو زیادہ بااختیار بنانے کے لئے قانون ساز اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا بل پچھلے کئی برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر التوامیں پڑا ہوا ہے۔ تاہم نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سربراہ شردپوار کی بیٹی اور مہاراشٹر کے بارمتی سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے والی سپریا سولے کہتی ہیں کہ صرف پارلیمان میں عورتوں کی تعداد بڑھنے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے لئے پورے سماج کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔

لوک سبھا کے لئے منتخب ہونے والی سب سے کم عمر خاتون 28 سالہ اگاتھا سنگما کا کہنا ہے کہ عورتوں کی سلامتی، عزت اور وقار جیسے امور کو وہ پارلیمان میں اٹھائیں گی۔ اگاتھا لوک سبھا کے سابق اسپیکر پی اے سنگما کی بیٹی ہیں۔ وہ اس سے پہلے ضمنی الیکشن میں منتخب ہو کر لوک سبھا پہنچ چکی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس مرتبہ سب سے زیادہ 13 خواتین اترپردیش سے منتخب ہو کر پہنچی ہیں۔ اترپردیش سے ہی سب سے زیادہ یعنی 80 اراکین لوک سبھا میں آتے ہیں۔ دوسرا نمبر مغربی بنگال کا ہے جہاں سے 7 خواتین لوک سبھا پہنچی ہیں۔ مدھیہ پردیش سے 6، آندھرا پردیش سے 5 اور گجرات، بہار اور پنجاب سے چار چار خواتین منتخب ہوئی ہیں۔

اس مرتبہ لوک سبھا پہنچنے والی اہم خواتین میں سونیا گاندھی، ممتا بنرجی، سشما سوراج، سمترا مہاجن، گرجا ویاس، پریہ دت اور شیلجہ کے نام شامل ہیں جب کہ فلم ادکارہ جیہ پردا، وجیہ شانتی اور شتابدی رائے بھی ایوان زیریں کی زینت میں اضافہ کریں گی۔

DW.COM