1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی وزیر صحت کے بیان پر ہم جنس پرستوں کا شدید ردعمل

بھارتی ہم جنس پرستوں نے آج منگل کے روز وزیر صحت کے بیان پر شدید احتجاج اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر صحت نے ہم جنس پرستی کو غیرملکیوں کی طرف سے بھارت لائی جانے والی ایک ’بیماری‘ قرار دیا تھا۔

غلام نبی آزاد

غلام نبی آزاد

بھارتی وزیر صحت غلام نبی آزاد نے پیر کے روز ایچ آئی وی ایڈز سے بچاؤ کے موضوع پر ڈسٹرکٹ ناظمین کی ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جنس پرستی ’غیر فطری چیز ہے اور بھارت کے لیے ناموزوں ہے‘۔ آزاد کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا: ’’یہ ایک ایسی بیماری ہے جو دوسرے ملکوں سے آئی ہے۔‘‘

اس کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور حکمران جماعت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی بھی شریک تھیں، تاہم یہ دونوں رہنما آزاد کے خطاب سے پہلے وہاں سے رخصت ہوچکے تھے۔

نئی دہلی ہائیکورٹ کی طرف سے ہم جنس پرستی کو جرم قرار نہ دیے جانے کے قریب دو برس بعد بھارتی وزیر صحت کے ان الفاظ نے ملک میں احتجاج کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ یہ بیان فی الفور واپس لیا جائے۔

ہم جنس پرستی نہ صرف بہت حد تک فطرت کا حصہ ہے بلکہ اس کا ذکر مذہبی کتابوں میں بھی ملتا ہے، ملہوترا

ہم جنس پرستی نہ صرف بہت حد تک فطرت کا حصہ ہے بلکہ اس کا ذکر مذہبی کتابوں میں بھی ملتا ہے، ملہوترا

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے موہنش کبیر ملہوترا آزاد کے بیان پر اپنی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’میرے خیال میں وزیر صحت کو فوری طور پر معذرت کرنی چاہیے، کیونکہ انہوں نے ہم جنس پرستوں کی پوری برادری کی بے عزتی کی ہے۔‘‘

ملہوترا کا کہنا تھا کہ ہم جنس پرستی نہ صرف بہت حد تک فطرت کا حصہ ہے بلکہ اس کا ذکر مذہبی کتابوں میں بھی ملتا ہے، اس لیے اسے غیر فطری کہنا نامعقول بات ہے۔

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے ایک اور کارکن اور وکیل آدیتیا بوندیوپادھیے Aditya Bondyopadhyay کے بقول غلام نبی آزاد کے بیان سے ان رجعت پسند گروپوں اور مذہبی تنظیموں کو شہ ملے گی جنہوں نے ہم جنس پرستی سے متعلق ہائیکورٹ کے 2009ء کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس