1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی وزیر خارجہ کے چار روزہ دورہ چین کا آغاز

بھارت اور چین کی جانب سے باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا چار روزہ دورہ چین آج سے شروع ہو گیا ہے۔

default

کا چار روزہ دورہ چین آج سے شروع ہو گیا ہے۔

Wen Jiabao Premier China

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ

ایس ایم کرشنا دورہ چین کے دوران بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب ینگ جئیچی اور وزیر اعظم وین جیاباؤ سے ملاقاتیں کریں گے۔ دونوں جانب کے رہنما باہمی تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر بھی غور کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے قبل ازیں ایک اعلامیے میں کہا کہ ایس ایم کرشنا کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا فروغ ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ممالک اب اس سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں اختلافات کو کم کر کے باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ طویل عرصے سے درپیش سرحدی تنازعے پر جاری مذاکرات کا جائزہ لیں گے۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کے متعدد دَور منعقد کئے جا چکے ہیں۔ دونوں ممالک اس حوالے سے 1962ء میں ایک مختصر لیکن تباہ کن جنگ بھی لڑ چکے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایس ایم کرشنا دورہ چین کے موقع پر بیجنگ حکومت کے ساتھ بھارتی زیرانتظام کشمیر کے شہریوں کو خصوصی ویزا جاری کئے جانے کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ بھارت کو اس خطے کے لئے چین کی جانب سے علیحٰدہ ویزے پر اعتراض ہے کیونکہ بیجنگ حکومت اس علاقے کو متنازعہ خیال کرتی ہے۔

گزشتہ کئی مہینوں سے نئی دہلی میں قائم چینی سفارت خانہ بھارتی کشمیر کے شہریوں کو ان کے پاسپورٹ کے بجائے علیٰحدہ کاغذ پر ویزا جاری کرتا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں دہلی حکومت نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا تھا۔ اس موقع پر چین کا سفر کرنے والے بعض کشمیریوں کو اس بناء پر طیاروں میں سوار نہیں ہونے دیا گیا تھا کہ ان ویزا ناقابل استعمال ہے۔

Flugzeug von Jet Airways in Neu-Delhi

گزشتہ برس بعض کشمیریوں کو چین کے سفر کی اجازت نہیں دی گئی تھی

بھارتی حکام کے مطابق وزیر خارجہ چینی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں تجارتی تعلقات میں فروغ کی کوششوں پر بھی غور کریں گے جبکہ چین کے ساتھ بھارت کے تقریبا 16 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے چینی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ رسائی دینے پر بھی بات چیت ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان 2009ء میں تجارت کا حجم 43 ارب رہا اور رواں برس اس کا 60 ارب ڈالر تک پہنچنا متوقع ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے دورہ چین کا اہتمام ایسے موقع پر کیا گیا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 60 برس بھی پورے ہو رہے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM