1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی وزیر اعظم کے دل کا آپریشن کامیاب

حکمران جماعت کانگرس پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ من موہن سنگھ کے دل کا آپریشن کامیاب رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ چھ ہفتوں تک اپنے آفس کا چارج نہیں سنبھال سکیں گے۔

default

من موہن سنگھ دوسری مرتبہ دل کا آپریشن کروا رہے ہیں

حکام کے مطابق وزیر خارجہ برنب مکھر جی اور وزیر دفاع اے کے انٹونی مل کر من موہن سنگھ کی عدم موجودگی میں وزیر اعظم کی زمہ داریاں سنبھالیں گے ۔

دوسری طرف وزیر اعظم منموہن سنگھ کے کامیاب بائی پاس پر عوام نے خوشیاں منائیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔ وزیر اعظم کےدفترسےجاری ایک بیان میں کہا گیاتھاکہ ڈاکٹر سنگھ کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔ انہیں جمعہ کے روز ایمس میں داخل کرایا گیا۔ جہاں آج ان کی کامیاب بائی پاس گرافٹ سرجری کی گئی۔ آپریشن میں ایمس کے سینئر ڈاکٹروں کے علاوہ ممبئی کے ایشیئن ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر بھی موجود تھے ۔

سرکاری ترجمان کے مطابق ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی صحت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر من موہن سنگھ کو سینے میں درد کی شکایت کے بعد منگل کے روز ایمس لے جایا گیا تھا۔ جہاں ڈاکٹروں نے ان کے کئی میڈیکل ٹسٹ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کے دل کی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔

ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کو انجیو پلاسٹی یا آپریشن کرانے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر سنگھ جمعرات کو اسپتال سے چھٹی کے بعداپنے کام کاج پر لوٹ آئے تھے لیکن جمعہ کے روز انہیں سینے میں پھر تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد انہیں ایمس میں داخل کرادیا گیا۔

ڈاکٹر سنگھ 1990 میں بائی پاس سرجری کرواچکے ہیں‘ جب کہ 2003 میں ان کی انجیو پلاسٹی کی گئی تھی اور 2007 میں پروسٹیٹ گلینڈ کا آپریشن ہوا تھا۔ آپریشن کی وجہ سے ڈاکٹر سنگھ یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔

آزاد بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب وزیر اعظم دہلی کے راج پتھ پر منعقد ہونے والی یوم جمہوریہ کی تقریب سے غیر حاضرہوں گے۔ حالانکہ صدر یوم جمہوریہ پریڈ کی سلامتی لیتا ہے لیکن وزیر اعظم اس موقع پر مہمان خصوصی کا استقبال کرنے کے علاوہ شہیدوں کی یادگار ”امرجےوتی“ پر گلہائے عقیدت پیش کرتا ہے۔

Indiens Aussenminister Pranab Mukherjee auf einer Pressekonferenz in Singapur

بھارتی وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں کسی کو وزیر اعظم نہیں بنایا گیا۔ تا ہم ان کی ذمہ داریاں وزیر دفاع اور وزیر خارجہ مل کر نبھائیں گے۔

76 سالہ وزیر اعظم نے اپنی رہائش گاہ سے اسپتال روانہ ہونے سے قبل تین سرکاری حکم ناموں پر دستخط کئے۔ ایک حکم نامے کے مطابق پرنب مکھرجی کو نگران وزیر اعظم مقرر کرنے اور انتظامی امور میں وزیر اعظم کی تمام ذمہ داریاں ان کے سپرد کرنے سے متعلق تھی۔

ڈاکٹر سنگھ نے جس دوسرے حکم نامے پر دستخط کیا اس کا تعلق نیوکلیائی بٹن سے ہے۔ اس بات کو انتہائی راز میں رکھا گیا ہے کہ انہوں نے اٹامک ہتھیاروں کے استعمال کے لئے نیوکلیائی بٹن کے استعمال کی اجازت کسے تفویض کی ہے۔

تیسرے حکم نامے کے ذریعہ انہوں نے یوم جمہوریہ تقریبات کی اپنی ذمہ داریاں نائب صدر محمد حامد انصاری کو انجام دینے کی درخواست کی ہیں۔