1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی وزیر اعظم کا دورہ چین

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ آج چین پہنچ رہے ہیں۔ وہاں وہ پانچ بڑے ترقی پذیر ممالک کے خصوصی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اقتصادی چیلنجز اور توانائی کا تحفظ اس اجلاس میں سنگھ کے ایجنڈے پر ہو گا۔

default

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ

برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کو دنیا کے پانچ بڑے ترقیاتی ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ممالک بی آر آئی سی ایس کے تحت اس اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔

بی آر آئی سی ایس کا تیسرا اجلاس چین کے جنوبی تفریحی مقام سانیا میں جمعرات کو شروع ہو گا۔ یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں جنوبی افریقہ کو شریک کیا گیا ہے جبکہ اس میں شریک سارے ہی ممالک اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ہیں۔

دنیا کی مجموعی پیداوار کا بائیس فیصد انہی ممالک سے آتا ہے جبکہ دنیا کی مجموعی آبادی کا چالیس فیصد بھی انہی ممالک میں ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے منبیر سنگھ کا کہنا ہے، ’اس اجلاس کے میزبان ملک چین کی جانب سے مقرر کردہ ایجنڈے میں عالمی سیاسی اور اقتصادی صورت حال، ترقیاتی مسائل اور اس تنظیم کے رکن پانچ ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ پر غور شامل ہے۔‘

منبیر سنگھ نے کہا، ’متعدد ممالک میں افراطِ زر کی وجہ سے مسائل ہیں جبکہ اجناس کی قیمتیں بھی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی اقتصادی اور مالیاتی مسائل جیسے موضوعات پر بھارت بات کرنا چاہے گا۔’

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور لیبیا میں سیاسی بحران کے تناظر میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ بھی ترجیحی موضوع رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں، دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف پر بھی بات ہو گی۔

Kashmir Karte

کشمیر پر چین کا مؤقف بھی بھارت کے لیے پریشان کن ہے

بھارتی وزیر اعظم ایسے وقت چین جا رہے ہیں، جب ان دونوں ممالک کے درمیان عالمی امور میں کلیدی کردار ادا کرنے کی دوڑ جاری ہے اور مختلف معاملات پر تناؤ بھی پایا جاتا ہے۔

بھارت کے روایتی حریف پاکستان کے لیے عسکری امداد اور کشمیر کے معاملے پر بیجنگ حکومت کا مؤقف نئی دہلی کے لیے پریشان کن ہے۔ اس کے باوجود دونوں ریاستوں کی باہمی تجارت بڑھ رہی ہے اور 2015ء تک اس کے ایک سو ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس