بھارتی وزیر اعظم مودی کی عوامی مقبولیت کی وجوہات کیا؟ | معاشرہ | DW | 14.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی وزیر اعظم مودی کی عوامی مقبولیت کی وجوہات کیا؟

دنیا بھر میں عوامیت پسندی کو عروج مل رہا ہے اور اس کی ایک جھلک جنوبی ایشیائی ملک بھارت میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ گجرات کے انتخابات میں نریندر مودی سیاسی عوامیت پسندی کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔

آج جمعرات چودہ دسمبر کو بھارتی ریاست گجرات میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہو رہا ہے۔ قوم پرست رہنما نریندر مودی کے سیاسی عروج کا آغاز اسی ریاست سے ہوا تھا۔ نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ بیس برسوں سے گجرات میں برسراقتدار ہے۔ اب بی جے پی کو گجرات میں حزب اختلاف کی گانگریس پارٹی کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ گجرات میں انتخابات کو مودی کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے ایک امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے عوامی جذبات کو ابھارنے اور ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے گزشتہ اتوار کو اپنے فیس بک پیج پر دعویٰ کیا تھا کہ گجرات کے انتخابات پر پاکستان اور کانگریس جماعت مل کر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے مابین ایک ملاقات کا حوالہ دیا۔ مودی کے مطابق گجرات کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی ’سازش‘ اسی ملاقات میں کی گئی۔ پاکستان اور بھارت کی کانگریس پارٹی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے جبکہ بھارت کے زیادہ تر تجزیہ کاروں اور ٹی وی چینلز کے مطابق بھی یہ دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔

اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی انتخابات میں عوام کی ذہن سازی کے لیے کون سے حربے استعمال کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے براہ راست عوام سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روایتی حریف ملک پاکستان کا کارڈ بھی کھیل رہے ہیں تاکہ عوامی جذبات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

حال ہی میں جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے گیگا انسٹیٹیوٹ نے عوامیت پسندی کے حوالے سے اپنی ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے، جس میں نریندر مودی کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق عوامیت پسند رہنما ایک ہی ’حقیقی قوم‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ملکی اشرافیہ اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے موضوعات پر زور دیتے ہیں۔ ایسے رہنما اپنی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم یا میڈیا کی بجائے براہ راست سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے عوام تک پہنچتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی کی مثالیں دی گئیں، جن کے کروڑوں ٹوئٹر فینز ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے عوامیت پسند لیڈر صرف اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ صلاح مشورہ کرتے ہیں اور اس کے بعد کوئی بھی فیصلہ کر لیتے ہیں۔ نریندر مودی کے گروپ میں ایسے ہندو رہنما شامل ہیں، جو مذہب کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ملک میں ’مذہبی قوم اور سیاست‘ کو ترویج دی جائے۔

عوامیت پسند سیاست کا دوسرا سب سے اہم عنصر یہ ہے کہ سیاست کو صرف ایک شخص تک محدود کر دیا جائے اور بھارت میں یہ دونوں عناصر نظر آتے ہیں۔ نئی دہلی میں مودی خود کو ’عام طبقے کے نمائندے‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خود کو ایک چائے والے کا بیٹا قرار دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش  کی ہے کہ وہ بدعنوان اشرافیہ کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے خود کو اپنی قوم، بے روزگاروں اور بے سہارا افراد کے خادم کے طور پر پیش کیا ہے۔

نریندر مودی اپنے تمام اہم فیصلے صرف اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ مشوروں سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بھارتی کرنسی میں اصلاحات کی مثال دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے صرف ملکی وزیر خزانہ اور چند دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور بڑی مالیت کے نوٹوں پر پابندی عائد کر دی۔ ایسے عوامیت پسند رہنما قومی تاریخ کو بھی اپنی سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی کی پارٹی بھی بھارت کو صرف اور صرف ہندو شناخت دینے کی کوشش میں ہے۔ اسی کوشش کے تحت حال ہی میں بھارت کے سیاحتی مقامات میں سے تاج محل کا نام بھی خارج کر دیا گیا تھا، جو ایک مسلمان بادشاہ نے تعمیر کروایا تھا۔

ہیمبرگ کے گیگا انسٹیٹیوٹ کے مطابق بھارت میں عوامیت پسندی طویل المدتی بنیادوں پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

ملتے جلتے مندرجات