1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی وزیر اعظم مودی کا دورہ جرمنی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آئندہ ہفتے جرمنی کے دو روزہ دورہ پر جائیں گے، جہاں و ہ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دو سالہ بین الحکومتی مشاورتی(آئی جی سی) میٹنگ میں شرکت کے لیے 29 مئی کو برلن پہنچیں گے۔ ان کے ساتھ بھارتی وزیروں کا ایک اعلٰی سطحی وفد بھی ہوگا۔ یہ آئی جی سی کی چوتھی میٹنگ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے جس میں تجارت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل رہے گی۔ دونوں ممالک کئی معاہدوں پر دستخط بھی کریں گے۔
بھارت میں جرمن سفیر ڈاکٹر مارٹن نے (Martin Ney) نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے حوالے سے بتایاکہ جرمنی چاہتا ہے کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر بات چیت جلد از جلد شروع ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ آئی سی جے (2015 ) میں وزیر اعظم مودی اور چانسلر میرکل نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایف ٹی اے مذاکرات کو جلد از جلد شروع کرنے پر کافی زور دیا تھا۔ ڈاکٹر نے کا مزید کہنا تھا، ’’اگر آپ گلوبلائزیشن پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں تو آپ کوایسے معاہدے کرنا ہی ہوں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ چین میں پچھلے دنوں ہوئی ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کانفرنس نے بھی یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے: ’’اس کانفرنس میں بھارت نے حصہ نہیں لیا تھا ۔ یورپی ممالک اس میں شریک ہوئے تھے لیکن انہوں نے ون بیلٹ ون روڈ کے تجارتی اعلامیے پر دستخط نہیں کیے ۔ اس لیے اگر او بی او آر پر یورپی یونین اور بھارت کو جھجھک ہے تو آزاد تجارتی معاہدہ پر مذاکرات شروع کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘

Indien Martin Ney, deutscher Botschafter (German Embassy New Delhi)

جرمنی چاہتا ہے کہ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر بات چیت جلد از جلد شروع ہوجائے، بھارت میں جرمن سفیر ڈاکٹر مارٹن نے


بھارت میں جرمن سفیر ڈاکٹر مارٹن نے کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی اور بھارت کئی عالمی اداروں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور متعدد عالمی امور پر دونوں کے موقف میں یکسانیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی 20، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات، سمندری جہازوں کی آزادانہ آمد ورفت، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں استحکام جیسے معاملات پر دونوں ملکوں میں اتفاق رائے ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، انفراسٹرکچر اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں 25 سے زائد مشترکہ ورکنگ گروپ کام کر رہے ہیں جب کہ جرمنی این ایس جی میں بھارت کی رکنیت کی حمایت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان حالیہ برسوں میں باہمی تجارت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انڈو جرمن چیمبر آف کامرس جرمنی کے باہرسب سے بڑا مشترکہ چیمبر ہے۔ جرمنی اور بھارت کی سات ہزار سے زائد کمپنیاں اس کی رکن ہیں۔ جب کہ اٹھارہ سو سے زائد جرمن کمپنیاں بھارت کے ساتھ تجارت کر رہی ہیں۔ 2010 کے بعد سے جرمنی کمپنیو ں نے بھارت میں ترپن ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں گزشتہ سال کے 8121 کروڑ روپے شامل ہیں۔
جرمنی بھارت کا دوسرا سب سے بڑا ترقیاتی پارٹنر بھی ہے اور وہ بھارت کو ہر سال تقریباًسات ہزار کروڑ روپے کی امداد دیتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی دونوں ملکوں کے مابین مسلسل ترقی ہورہی ہے ۔ اس وقت چودہ ہزار بھارتی طلبہ جرمنی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تعداد چار سال پہلے کے مقابلے دو گنا ہے اور اس میں سالانہ پچیس فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔

Indien Angela Merkel und Narendra Modi in Neu-Delhi

2015 میں ہونے والی آئی سی جے میں وزیر اعظم مودی اور چانسلر میرکل نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایف ٹی اے مذاکرات کو جلد از جلد شروع کرنے پر کافی زور دیا تھا


دفاع کے شعبے میں باہمی تعاون میں اضافہ کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں جرمن سفیر نے کہا کہ جرمنی ’’گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ‘‘ (جی ٹو جی) معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اور چونکہ بھارت اس کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے اس لیے اس طرح کے معاہدے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مارٹن کا کہنا تھا کہ ’’کشمیر اس ملک (بھارت) کا داخلی معاملہ ہے‘‘، اس لیے وزیر اعظم مودی کے دورہ برلن کے دوران اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جرمنی دہشت گردی کے خطرات پر فکر مند ہے اور کسی بھی ملک سے دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ زدہ ملک میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے جرمنی بھارت کے ساتھ ہے۔