1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی وزیراعظم کوپن ہیگن کانفرنس میں شریک، قیاس آرائیاں ختم

بھارت نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ کوپن ہیگن کانفرنس سےکوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہےکیونکہ فی الحال اس کانفرنس میں ماحولیات کے تحفظ کے لئے کے کسی معاہدہ کے بجائے اس مسئلہ پر سیاسی اتفاق رائے بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

default

بھارت نے آج اس خدشہ کا اظہار کیا کہ کوپن ہیگن میں جاری کانفرنس سےکوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہےکیونکہ فی الحال اس کانفرنس میں ماحولیات کے تحفظ کے لئے کے کسی معاہدہ کے بجائے اس مسئلہ پر سیاسی اتفاق رائے بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

دریں اثناء بھارتی وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کے لئےجمعرات کو نئی دہلی سے روانہ ہو رہے ہیں۔ اس سےقبل یہ چہ مگوئیاں زورں پر تھیں کہ وزیراعظم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم آج بھارتی وزارتِ خارجہ کی ایک پریس کانفرنس میں بھارتی خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے وزیراعظم کےدورے کا باضابطہ اعلان کرکے ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ماحولیات کے تحفظ کے مسئلہ کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

بھارت اس بات کا سخت مخالف ہے کہ بعض ترقی یافتہ ممالک کیوٹو پروٹوکول کو ختم کر نےکی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اس کے تحت ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ملکوں پر ان کی استطاعت کے مطابق ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ بھارت کا واضح موقف ہے کہ وہ ایسی کسی قراردادکو تسلیم نہیں کریے گا جو کیوٹو پروٹوکول کے اس کلیدی اصول کے برعکس ہو۔ غالبا اسی تناظر میں خارجہ سیکریٹری راؤ نے کہا کہ امیر ممالک اس سلسلہ میں سنجیدہ نظرنہیں آتے۔ ترقی یافتہ ملکوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے مثبت نتائج کی امید کم ہے۔ اب تک جو مذاکرات ہوئے ہیں اس سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ترقی یافتہ ممالک ماحولیات کے بچاؤ کے لئے کسی جامع اور ٹھوس حل کے لئے آمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بالی ایکشن پلان اور اقوامِ متحدہ کے معاہدوں کے تحت رائے سازی کی کوشش کررہا ہے۔ راؤ کے مطابق بھارت کو احساس ہے کہ کوپن ہیگن کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوعات کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تخفیف، رعایت، مالیہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی وغیرہ جیسے مسائل پر بات نہیں ہو رہی ہے۔ اس سے ماحولیات کے کاز کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بھارتی خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ بھارت اس مسئلہ پر چین، برازیل، جنوبی افر یقہ نیز جی 88 ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اس مسئلہ پر تنہا نہیں ہے بلکہ تمام ترقی پزیر ممالک اس کی پشت پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں ماحولیات کے خصوصی ایلچی شیام سرن اور نروپما راؤ شامل ہیں۔جبکہ بھارتی وزیرماحولیات جئے رام رمیش پہلے ہی سے وہاں موجود ہیں۔ توقع ہےکہ ڈاکٹر سنگھ چینی وزیراعظم جیا باؤ اور امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کریں گے تاہم ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ : افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت : عاطف توقیر