1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی وزیراعظم کا دورہ افغانستان

بھارتی وزیراعظم اگلے ہفتے کے دوران ایک اہم دورے پر کابل جائیں گے۔ ایک بھارتی اہلکار کے مطابق رواں برس امریکی افواج کے انخلاء کے آغاز کے تناظر میں من موہن سنگھ افغانستان کو مزید امداد اور تعاون کی پیشکش کریں گے۔

من موہن سنگھ

من موہن سنگھ

ایک بھارتی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے دورہ کابل کا مقصد بھارت کی طرف سے افغانستان کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکی فوجیوں کی واپسی کا آغاز ہو رہا ہے، ان کا ملک کابل حکومت کے شانہ بشانہ ہے۔

اس اہلکار کے مطابق من موہن سنگھ اگلے چند روز میں کابل جائیں گے، جہاں وہ افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کریں گے۔ اس اہلکار کے مطابق بھارتی وزیر اعظم کے دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے نہیں کیا جا رہا۔

بھارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ من موہن سنگھ اس دورے کے دوران کابل کے لیے ایک نئے امدادی پیکج کا بھی اعلان کریں گے۔ اس پیکج کی تفصیلات ابھی جاری نہیں ہوئیں۔

افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی تعینات ہیں

افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی تعینات ہیں

امریکہ کی طرف سے سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کرنے اور افغانستان میں موجود اپنی افواج کی واپسی کا آغاز رواں برس جولائی سے کرنے کا منصوبہ ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مطابق اس کی افواج 2014ء تک افغانستان چھوڑ دیں گی۔ افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں روایتی حریف اور ہمسایہ ممالک پاکستان اور بھارت دونوں کی کوشش ہے کہ اس بحران زدہ ملک میں اپنا اثر و رسوخ زیادہ سے زیادہ بنائیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ میں اضافہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں دفاعی نقطہ نظر سے پاکستان کی مغربی سرحدیں بھی غیر محفوظ ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس