1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی نژاد جرمن شہری ڈوئچے بینک کے ’متوقع سربراہ‘

جرمنی میں ایک بھارتی نژاد شہری کو ملک کے سب سے بڑے ڈوئچے بینک کا سربراہ بنتا دیکھ کر ان کے مخالفین میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ انشوجین 1995ء سے ڈوئچے بینک سے وابستہ ہیں، تاہم انہیں جرمن زبان پر عبور حاصل نہیں۔

default

ڈوئچے بینک کے موجودہ سربراہ 62 سالہ یوزیف آکرمان کی مدت ملازمت 2013ء میں ختم ہورہی ہے۔ اس بھارتی شہری کو رواں ہفتے ہی ڈوئچے بینک میں سرمایہ کاری کے امور کا سربراہ چنا گیا، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ انہیں ہی اس نجی بینک کا سربراہ بنایا جاسکتا ہے۔ فرینکفرٹ میں اس بینک کے صدر دفتر نے البتہ اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے۔

Mannesmann-Prozeß, Josef Ackermannn

یوزیف آکرمان کی مدت ملازمت 2013ء میں ختم ہورہی ہے

انشو جین کا تعلق بھارتی ریاست جے پور سے ہے اور انہوں نے پیشہ ورانہ زندگی کا زیادہ دورانیہ امریکہ اور لندن میں گزارا ہے۔ 1995ء میں لندن ہی میں ڈوئچے بینک سے جڑنے کے بعد انہوں نے 2000ء میں بینک میں گلوبل مارکیٹ کا شعبہ سنبھالا اور 2009ء میں بینک کے بورڈ کا حصہ بنے۔

Fairsearch نامی تجزیاتی ادارے سے وابستہ ڈیئیٹرہائین کے بقول آکرمان کے بعد یہی بھارتی شہری اس ادارے کا ’طاقتور ترین انتظامی افسر‘ دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے البتہ اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جرمنی میں انگریزی بولنے والے ایک شخص کو ڈوئچے بینک کے سربراہ کے طور پر پسند نہیں کیا جائے گا۔ انشوجین کی جرمن بولنے کی صلاحیت سے متعلق بھی متضاد اطلاعات ہیں۔

خیال رہے کہ اس بینک کے موجودہ سربراہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو مالی امور سے متعلق مشورے دیتے رہتے ہیں اور وہ برلن حکومت اور فرینکفرٹ کے مالیاتی اداروں کے درمیان پل کا کام بھی کرتے ہیں۔ جرمن حکومت نے مالیاتی بحران کے دوران متعدد بینکوں کے لئے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا اور اب انہیں کنٹرول میں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

انشوجین کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی نگرانی میں کام کرنے والے شعبے نے ہی اس بینک کے ٹیکس سے قبل کے 80 فیصد منافع کو یقینی بنایا ہے، جو لگ بھگ پانچ ارب یورو بنتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM