1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارتی نائٹ کلب کی مسلم خاتون سکیورٹی گارڈ

مہرالنساء شوکت علی بھارت کے ایک نائٹ کلب میں سکیورٹی گارڈ ہیں۔ اس کی طاقت ور جسامت اور رعب و دبدبے والی شخصیت کے باعث کلب میں موجود لڑکیاں خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مہرالنساء گزشتہ دس سالوں سے بطور باؤنسر یا سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ تین برس سے وہ ہر روز رات کو ایک نائٹ کلب میں دس گھنٹے بطور گارڈ اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہے۔

مہرالنساء اب بار میں صلح صفائی کرانے، خوفزدہ لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور منشیات کی غیر قانونی استعمال سے پردہ اٹھانے کی ماہر بن چکی ہے۔ سوشل نامی نائٹ کلب کے مالک ریاض عملانی کا کہنا ہے،’’ ہم نے عورتوں کو اس لیے نوکری دی ہے تاکہ ہمارے نائٹ کلب میں عورتیں محفوظ محسوس کریں۔‘‘ ریاض عملانی کا کہنا ہے کہ مہرالنساء  کلب میں شراب نوشی کے باعث بے تحاشہ لڑائیوں اور جھگڑوں کو ختم کروا چکی ہے۔

Indien weibliche Türsteherinnen in Neu Delhi (Reuters/A. Abidi )

مہرالنساء اپنے گھر والوں کے ہمراہ

مہرالنساء نے روئٹرز کو بتایا،’’ میرے بھائی نے مجھ سے کئی مرتبہ پوچھا کہ تم کیسا کام کرتی ہو۔ لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے والدین کو مجھ پر بھروسہ ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ میں کوئی غلط کام نہیں کر رہی۔‘‘

تیس سالہ مہر انساء بالی وڈ کی نامور اداکارہ پری یانکا چوپڑا، پریتی زنتا اور ودیا بالن کی سکیورٹی ٹیم میں بھی کام کر چکی ہے۔ مہر النساء مسلمان لڑکیوں کے بارے میں قائم عام تاثر کو توڑ چکی ہے۔ انہوں نے نئی دہلی سے 200 کلومیٹر دور شاہرنپور میں ایک مسلم گھرانے میں پرورش پائی اور یہ بھارت کی فوج یا پولیس کا حصہ بننا چاہتی تھی لیکن اس کے والد کو یہ قبول نہ تھا۔

Indien weibliche Türsteherinnen in Neu Delhi (Reuters/A. Abidi )

مہرالنساء اپنے گھر میں کام کرتے ہوئے

اپنی ماں کی مدد سے انہوں نے پرائمری تک تعلیم مکمل کر لی لیکن جب ان کے والد کو سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں بہت نقصان ہوا تو یہ خاندان نئی دہلی منتقل ہونے پر مجبور ہو گیا۔ یہاں مہرالنساء جو اس وقت کالج میں طالبہ تھی، اپنے والدین، دو بہنوں اور بڑی بہن کے تین بچوں کی واحد کفیل بن گئی۔

ویڈیو دیکھیے 02:33

نئی دہلی کی خاتون ’باؤنسر‘ کا خواب

مہرالنساء کا کہنا ہے،’’ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے، یہ کام آسان نہیں ہے، کلب میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنا آسان کام نہیں ہے۔‘‘ کلب میں موجود نیکیتا لامبا نامی ایک خاتون کا کہنا ہے،’’ اگر میں یہاں آؤں اور ایک خاتون باؤنسر کو دیکھوں تو میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتی ہوں۔‘‘

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات