1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی مسلمان گائے کا گوشت نہ کھائیں، وزیر اعلیٰ کا مطالبہ

بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہندؤوں کے جذبات کے احترام میں گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے بھارت میں معاشرتی تقسیم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Indien Neu Delhi Hindu Protest gegen Rindfleisch-Konsum

بیف کھانے پر پابندی کا مطالبے اور ایک مسلمان کے قتل کے سلسلے میں کٹر ہندو قوم پسند تنظیم شیو سینا کے کارکن نئی دہلی میں مظاہرہ کرتے ہوئے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانا ترک کرنا ہو گا۔ یہ امر اہم ہے کہ ہندو عقائد کے مطابق گائے کو مقدس گردانا جاتا ہے اور اس لیے متعدد ریاستوں میں اس جانور کو ذبح کرنے پر پابندی بھی عائد کی جا چکی ہے۔

کھٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب بھارت میں یہ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جمعے کے دن ہی ہندوؤں نے ہماچل پردیش میں گائے اور بیلوں کی چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک اور مسلمان کو ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل بھی ایک مسلمان کی ہلاکت کی تقریباﹰ ایسی ہی ایک واردات عمل میں آ چکی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری بھی گائے کا گوشت کھاتی ہے۔

اگرچہ بھارت میں ہندو گائے کو مقدس قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ملک میں گائے کو ذبح نہ کیا جائے تاہم دوسری طرف بھارت گائے کا گوشت برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔

ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت نے ہریانہ کے ریاستی انتخابات میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس ریاست کے وزیر اعلیٰ کھٹر نے اخبار انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک تازہ بیان میں کہا، ’’اس ملک میں انہیں (مسلمانوں کو) گائے کا گوشت کھانا ترک کرنا ہو گا۔‘‘

منوہر لال کھٹر نے مزید کہا کہ اگر مسلمان گائے کا گوشت نہ بھی کھائیں، تو بھی وہ مسلمان ہی رہیں گے، ’’یہ کہیں نہیں لکھا کہ مسلمانوں نے صرف بیف ہی کھانا ہے۔ کسی مسیحی کتاب میں بھی یہ تحریر نہیں ہے کہ انہوں نے بھی صرف گائے کا گوشت ہی کھانا ہے۔‘‘

Indien Jammu Hindu Protest gegen Rindfleisch-Konsum

بھارت کے زیر انتظام جموں میں ہندو مظاہرین گائے کا گوشت کھانے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے یہ تازہ بیان بھارت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے مابین سماجی تقسیم کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی سیاسی حریفوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت بہار میں ریاستی الیکشن سے قبل اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش میں ہے۔

تاہم وزیر اعظم مودی نے بذات خود اس تنازعے کے نتیجے میں مشتعل ہندوؤں کی طرف سے ایک مسلمان کی ہلاکت کو افسوناک قرار دیا تھا کہ اب ایک اور مسلمان اسی طرح ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد رواں ہفتے ہی مودی نے اس پہلے قتل کو ایک ناخوشگوار واقعہ قرار دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کے نعروں کی وجہ سے اس ہندو اکثریتی ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

DW.COM