1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارتی مساج پارلروں میں تھائی لڑکیوں کی مانگ بڑھ گئی

بھارت میں بڑھتے ہوئے سپا اور مساج پارلر کے کاروبار نے تھائی لینڈ کی خواتین کی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔ بھارتی پولیس اور سماجی کارکنوں کے مطابق متعدد تھائی خواتین کو جسم فروشی کے لیے انڈیا اسمگل کیا جا رہا ہے۔

Symbobild Prostitution Asien (picture-alliance/dpa)

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ غربت کا شکار بیشتر خواتین کو ملازمت کا جھانسا دے کر یا پھر جبراﹰ جسم فروشی کے کاروبار میں ڈالا جاتا ہے

رواں برس بھارت  کے مغربی شہروں پونے اور ممبئی میں مساج پارلروں پر چھاپوں کے دوران کم سے کم چالیس تھائی خواتین کو برآمد کیا گیا۔ اِن خواتین سے جسم فروشی کا کام کرایا جاتا تھا۔

غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن کی بھارت میں پروگرام ڈائریکٹر جوتی نیل نے تھامس روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’بھارت میں مساج کرنے والی تھائی لینڈ کی لڑکیوں کی مانگ اس لیے زیادہ ہے کہ انہیں اپنی سفید رنگت کی جلد کی وجہ سے ہائی پروفائل سمجھا جاتا ہے۔‘‘

 جوتی نیل نے مزید کہا،’’ چھاپوں میں جن لڑکیوں کو بازیاب کیا جاتا ہے اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق عموماﹰ مختلف بھارتی ریاستوں اور پڑوسی ممالک سے ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک ہی چھاپے میں ملنے والی تمام لڑکیاں تھائی لینڈ کی شہری ہوں تو پھر اس کے معنیٰ یہ ہوئے کہ تھائی خواتین بڑی تعداد میں بھارت کے مساج پالروں میں کام کر رہی ہیں۔‘‘

رواں برس جولائی کے مہینے میں ہی پونے کے ایک امیر علاقے میں قائم ایک مساج پارلر سے دس تھائی لڑکیوں کو برآمد کیا گیا تھا۔ فرانسیسی فلاحی تنظیم سیلیس کے مطابق دنیا بھر میں قریب چالیس ملین خواتین سیکس ورکرز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ۔

بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک سے ایک طویل عرصے سے لڑکیوں کو اسمگل کر کے انڈیا لایا جاتا ہے اور ان سے جسم فروشی کا کام لیا جاتا ہے۔

بھارتی سماجی کارکنوں اور پولیس کا تاہم کہنا ہے کہ اب بھارتی مردوں اور بھارت آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی جانب سے تھائی لڑکیوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

پونے میں اینٹی ہیومن ٹریفِکنگ کے سربراہ سنجے پاٹل کہتے ہیں،’’ یہ چلن ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ یہ لڑکیاں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں اور غریب گھرانوں کی ہیں۔ ان کے گھر والے گزر بسر کے لیے اِن ہی کی آمدن پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘

بھارتی پولیس کے مطابق تھائی سیکس ورکر خواتین، جن میں سے اکثر بنکاک سے تعلق رکھتی ہیں، سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ بھارت میں وہ زیادہ کما سکیں گی۔ تھائی لینڈ میں یہ خواتین اوسطاﹰ نو ڈالر کماتی ہیں جب کہ بھارت میں یومیہ اس سے دگنا کما لیتی ہیں۔

سنجے پاٹل نے بتایا کہ جن لڑکیوں کو انہوں نے آزاد کرایا وہ یہاں تین یا چار ماہ سے کام کر رہی تھیں اور اُن کے پاس تقریباﹰ پندرہ سو ڈالر تھے۔ پاٹل کے مطابق یہ تھائی لڑکیاں فی الحال شیلٹر ہوم میں ہیں اور واپس اپنے ملک جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔

بھارت میں تھائی سفارت خانے کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئی دہلی، جے پور اور بنگلور سے بھی کئی تھائی لڑکیوں کو آزاد کرایا گیا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic