بھارتی مرد انجینئر کی ’اغوا کے بعد زبردستی شادی‘، تفتیش شروع | معاشرہ | DW | 05.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی مرد انجینئر کی ’اغوا کے بعد زبردستی شادی‘، تفتیش شروع

بہار میں، جو بھارت کے غریب ترین صوبوں میں سے ایک ہے، پولیس اس امر کی تفتیش کر رہی ہے کہ ایک نوجوان مرد انجینئر کو اغوا کر کے اس کی زبردستی شادی کرا دی گئی۔ پولیس کے مطابق مسلح اغواکاروں کا تعلق دلہن کے خاندان سے تھا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ پانچ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بہار میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ انتہائی حد تک غربت کی شکار اس ریاست میں ماضی میں بھی مردوں کی ایسی ’جبری شادیوں‘ کے سینکڑوں واقعات دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

بودھ بیوی اور روہنگیا شوہر، زندگی خوف کے سائے میں

ہندو، مسلم اور مسیحی لڑکیوں کی اجتماعی شادی

پولیس نے جمعے کے روز بتایا کہ وہ جس واقعے کی چھان بین کر رہی ہے، اس کی ایک ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ونود کمار نامی ایک نوجوان ہندو انجینئر کی، جنہیں پہلے جان کی دھمکی دے کر اغوا کیا گیا تھا، گن پوائنٹ پر زبردستی شادی کرائی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس جبری شادی سے پہلے کس طرح ونود کمار کو ان کے اغواکاروں نے پیٹا بھی اور پھر جب وہ منتیں کر رہے تھے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے، تو اغواکاروں نے انہیں زبردستی عروسی لباس پہنوا کر ہندو عقیدے کے مطابق شادی کے ’منڈل‘ تک پہنچا دیا۔

Indien Massenhochzeit in Virar

ہندو دلہا جبری شادی کے بعد موقع سے فرار ہو کر ہمسایہ ریاست جھاڑکھنڈ میں اپنے گھر پہنچ گیا

اس دوران اسی فوٹیج میں دلہن کا ایک رشتہ دار چیخ کر یہ کہتا بھی دکھائی دیتا ہے، ’’تمہاری صرف شادی کرائی جا رہی ہے، تمہیں پھانسی تو نہیں چڑھایا جا رہا۔‘‘ اے ایف پی کے مطابق اس فوٹیج میں بعد میں ونود کمار اپنی دلہن کے پہلو میں بیٹھے روتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں، جس پر ان کی ’نئی رشتہ دار‘ سسرالی خواتین میں سے ایک انہیں دلاسہ دینے لگتی ہے۔

’جینز پہنوگی تو شادی کون کرے گا‘: بھارتی وزیر

دلہا کی موت کی خواہش مند دلہن کے ہاتھوں سترہ افراد ہلاک

جنسی تعقلقات پر بات کرنا خاتون میزبان کو مہنگا پڑ گیا

دیگر رپورٹوں کے مطابق ونود کمار اس شادی کے بعد موقع سے فرار ہو گئے اور بہار کی ہمسایہ بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ میں واپس اپنے گھر پہنچ گئے۔ ایک مقامی پولیس افسر لالن موہن پرشاد نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد پولیس نے ونود کمار سے رابطہ کر کے انہیں مدد کی پیشکش تو کی لیکن انہوں نے ابھی تک پولیس کو کوئی باقاعدہ رپورٹ درج نہیں کروائی۔

Indien Kinder in den Slums von Delhi

بہار کا شمار بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے

بہار کے ایک ماہر عمرانیات سائبل گپتا نے اس بارے میں اے ایف پی کو بتایا، ’’بغیر کسی رضا مندی کے ایسی جبری شادیاں بعد ازاں انفرادی اور سماجی طور پر بھی اس لیے قبول کر لی جاتی ہیں کہ معاشرتی طور پر، خاص کر ہندوؤں میں  طلاق کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا، ’’ اب مردوں کی ایسی جبری شادیاں کم ہو گئی ہیں لیکن وہ ابھی تک ختم نہیں ہوئیں۔‘‘

پاکستان: لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل مسترد

عمر رسیدہ عرب شیوخ کی کمسن بھارتی لڑکیوں سے شادیاں

زبردستی کی شادی سمیت 40 ملین افراد غلامی کا شکار

ماہرین سماجیات کے مطابق دلہا کو اغوا کر کے ایسی جبری شادیاں اکثر بہت غریب خاندانوں کے لوگ کراتے ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ غربت کے شکار والدین اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دے سکتے، جس کا بالعموم لڑکے والوں کی طرف سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2016ء میں بھارتی مردوں کو اغوا کر کے ایسی قریب تین ہزار جبری شادیاں کروائی گئیں، جن میں سے کوئی ایک بھی منسوخ نہ کی گئی اور سبھی دلہوں نے آخرکار ’حالات سے سمجھوتہ‘ کر ہی لیا۔

DW.COM