1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ماؤ نوازوں نے یرغمالی پولیس افسر رہا کر دئے

بھارتی ریاست بہار میں مسلح ماؤنواز باغیوں نے آج پیر کے روز ان تین پولیس افسران کو رہا کر دیا، جنہیں قریب ایک ہفتہ قبل یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس امر کی آج نئی دہلی میں ملکی حکام نے بھی تصدیق کر دی۔

default

ماؤنواز باغیوں کی تلاش کا کام جاری

ان تین پولیس افسران کو ان کے ایک چوتھے ساتھی سمیت ماؤنواز باغیوں نے کئی دن پہلے اغواء کیا تھا۔ پھر ان کے ان ایک ساتھی کو، جس کا نام لوکاس ٹیٹ تھا، گولی مار دی گئی تھی اور اس کی گولیوں سے چھلنی لاش حکام کو گزشتہ جمعے کے روز ایک جنگلاتی علاقے سے ملی تھی۔

Maoisten Indien

ماؤنواز باغیوں کا آٹھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ

اس پر بھارتی سکیورٹی دستوں اور پٹنہ میں بہار کی ریاستی حکومت نے ان باغیوں اور ان کے زیر قبضہ پولیس اہلکاروں کی تلاش کا کام اور بھی تیز کر دیا تھا۔ یوں جب ان باغیوں پر دباؤ اور بھی زیادہ ہو گیا تو انہوں نے اپنے زیر قبضہ باقی ماندہ تینوں یرغمالیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔

نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ماؤنواز عسکریت پسندوں نے ان تینوں پولیس اہلکاروں کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے قریب 150 کلومیٹر جنوب مشرق کی طرف لکھی سرائے کے علاقے میں پیر کو علی الصبح ایک گھنے جنگلاتی علاقے میں چھوڑ دیا تھا، جہاں سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو مل گئے۔

بہار میں حکمران جماعت جنتا دل یونائیٹڈ کے ایک ترجمان شوآنند تیواڑی نے بتایا کہ حکومت نے لوکاس ٹیٹ نامی پولیس اہلکار کے قتل کے بعد ماؤنواز باغیوں کے خلاف سرچ آپریشن بہت تیز کر دیا تھا اور عسکریت پسندوں نے باقی ماندہ پولیس افسران کو اسی بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔

Indien Maoisten Anschlag Polizei

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے ایک حملے میں زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکار

پٹنہ میں ریاستی حکومت کے اہلکاروں نے بتایا کہ باغیوں کا مطالبہ تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کی رہائی کے بدلے ان کے آٹھ زیر حراست ساتھیوں کو رہا کیا جائے، تاہم حکومت نے باغیوں کا یہ مطالبہ پورا نہیں کیا۔ ان پولیس افسران کی رہائی کے بعد بہار میں مقامی میڈیا نے ماؤ نواز باغیوں کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ان یرغمالیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا ہے۔

ان بھارتی پولیس اہلکاروں کو ماؤنواز باغیوں نے اگست کے آخر میں بہار ہی میں لکھی سرائے کے مقام پر ایک جنگلاتی علاقے میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے ایک خونریز جھڑپ کے بعد یرغمالی بنا لیا تھا۔ اس جھڑپ میں چند باغیوں کے علاوہ کم ازکم دس پولیس اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

بھارت میں ماؤ نواز باغی تحریک بہت سی یونین ریاستوں کو متاثر کر رہی ہے، جہاں ان کے خلاف وسیع تر آپریشن بھی جاری ہیں۔ بھارت کے کل 626 انتظامی اضلاع میں سے ماؤ نواز عسکریت پسند ایک تہائی سے زیادہ اضلاع میں فعال ہیں اور ملکی وزیر اعظم من موہن سنگھ اس مسلح بغاوت کو داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس