1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی لوک سبھا نے جوہری بل کی منظوری دے دی

بھارتی لوک سبھا نے ملک کی 150 بلین ڈالر کی جوہری منڈی بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے کھولنے کے حوالے سے ایک تاریخ ساز بل کی منظوری دی ہے۔ اس سے قبل اس بل پر مختلف طرح کے اعتراضات کئے جا رہے تھے۔

default

اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کافی عرصے سے اس بل کی مخالفت کر رہی تھی۔ اپوزیشن کی اس سب سے بڑی جماعت کا موقف تھا کہ کسی ناگہانی واقعے کی صورت میں اس سے متاثرہ افراد کے لئے زر تلافی کی رقم نہایت کم رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب صنعتی اداروں کو خدشات تھے کہ جوہری منڈی کو کھولنے کے بعد بھارتی صنعتی ترقی پر حرف آئے گا اور اس کا اثر مختلف کمپنیوں پر پڑے گا۔

Innenansicht eines indischen Atomkraftwerkes

اس بل کی منظوری سے اب بھارتی جوہری مارکیٹ بیرونی کمپنیوں کے لئے کھل گئی ہے

بھارتی حکمران جماعت اور اس بل کی حامی کانگریس پارٹی نے اس بل کی منظوری کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر اس قانونی بل میں متعدد ترامیم کیں اور صنعتی اداروں کے تحفظات بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح خاصی جدوجہد کے بعد بدھ کے روز بھارتی ایوانِ زیریں نے اس بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

اس بل کی منظوری کے بعد امریکی ادارے جنرل الیکٹرک اور ویسٹنگ ہاؤس سمیت جاپانی ادارے توشیبا کارپوریشن کے لئے بھی بھارتی منڈی میں داخلے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ یہ کمپنیاں کسی ناگہانی واقعے کی صورت میں زر تلافی کے حوالے سے کسی واضح حکومتی اعلان کے بغیر بھارتی منڈی میں داخلے سے کترا رہی تھیں۔

اس بل کی منظوری کو بھارتی میڈیا میں خالصتاﹰ وزیراعظم من موہن سنگھ کی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ سن 2008ء میں امریکہ کے ساتھ سول جوہری معاہدے کے اعلان سے بھارت جوہری میدان میں بین الاقوامی دھارے کا حصہ بنا تھا جبکہ اس معاہدے کے باعث نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان معاشی اور سٹریٹیجک تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔

Indien-Reise US Präsident George Bush trifft sich mit Indiens Premierminister Manmohan Singh

سابق امریکی صدر بش نے بھارت کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا

ملکی جوہری منڈی کھولنے کے قانون کی منظوری کے ذریعے اب اس میدان میں بین الاقوامی کمپنیوں کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے اور نئے جوہری پلانٹس کی تنصیب کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان پلانٹس کے ذریعے ملک میں توانائی کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM

ویب لنکس