1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی قوم پرستوں کا ’برتر بچے‘ بنانے کا دعوی

ایک بھارتی قوم پرست گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے 450 ’’سپیریئر بے بیز‘‘ یعنی برتر بچے پیدا کر لیے ہیں۔ اس گروپ کے مطابق اس سلسلے میں آریوویدا، خصوصی خوراک اور ستاروں کے علم سے مدد لی گئی ہے۔

بھارت کی بائیں بازو کی ہندو جماعت راشٹریہ سوایم سیوک سَنگھ (آر ایس ایس) سے تعلق رکھنے والے گروپ آروگیا بھارتی کی طرف سے ’پرفیکٹ‘ یا کامل بھارتی بچے پیدا کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم بھارتی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

اس گروپ کے ’وِگیان سنسکار پراجیکٹ‘ کے بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں پانچ میڈیکل سینٹر ہیں۔  گروپ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اب تک 450 ’’اپنی مرضی کے مطابق بچے‘‘ پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اس گروپ کے مطابق وہ 2020ء تک تمام بھارتی ریاستوں میں ایسے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آروگیا بھارتی نامی اس گروپ کے منصوبے ’’گرب وگیان سنسکار‘‘ کی کنوینر کرشما مہندس نروانی نے ڈی ڈبلیو کے مُرالی کرشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ایک سائنسی طریقہ کار پر عمل کیا ہے۔ یہ خوراک، آریوویدا (روایتی بھارتی طب) اور دیگر عوامل مثلاﹰ ستاروں اور سیّاروں کی ایک مخصوص ترتیب پر منحصر ہے جس سے کوئی خاتون ایک اُتم سنست (اپنی مرضی کے عین مطابق) بچہ جنم دے سکتی ہے۔‘‘

نروانی کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں امید ہے کہ ہم آئندہ چند برسوں میں ایسے ایک ہزار بچے پیدا کر لیں گے۔‘‘

بھارتی وزیراعظم کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی دراصل آر ایس ایس ہی کی ذیلی سیاسی جماعت ہے۔  آروگیا بھارتی کے ڈاکٹروں کے مطابق انہیں آر ایس ایس کی طرف سے اس کام پر بہت زیادہ حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔

ان ڈاکٹروں کے مطابق ’’برتر بچے‘‘ پیدا کرنے والے والدین تین ماہ کے ایک تطہیری یا تزکیے کے عمل سے گزرتے ہیں۔ ایسے بچوں کے خواہشمند والدین صرف اُسی وقت ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں جس وقت سیّارے ایک مخصوص ترتیب میں ہوں۔ حمل ٹھہر جانے کے بعد سے بچے کی پیدائش تک پھر وہ ازدواجی تعلقات سے احتراز کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے بعد مذکورہ خاتون بچے کی پیدائش تک کھانے پینے کے ایک مخصوص پروگرام پر عمل کرتی ہے۔

ان مراکز کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تزکیے کے وقت کے دوران دراصل والدین کے نطفے اور بیضے کی تطہیر ہوتی ہے اور وہ ہر  قسم کے جینیاتی نقائص سے پاک ہو جاتے ہیں۔ جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو ان مراکز کے ڈاکٹروں کی تمام تر توجہ حاملہ خاتون کی خوراک پر  مرکوز ہو جاتی ہے۔

تاہم بھارت میں مروجہ میڈیکل سائنس کے تحت پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر اس طرح کے کسی امکان کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں۔ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر پُنیت بیدی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’یہ آریوویدا کے طریقہ کار پر مشتمل نہیں ہے، یہ سراسر غلط ہے۔‘‘

آر ایس ایس کی کرشما مہندس نروانی کے مطابق، ’’ہمیں یہ ثابت کرنے میں تو چند برس لگیں گے کہ اس طرح سے یقیناﹰ برتر بچے پیدا ہوتے ہیں، لیکن ہمارا مقصد بھارت کو ایک مضبوط قوم بنانا ہے۔‘‘

اس منصوبے کو تاہم بھارتی میڈیا کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔ ایسی ہی ایک رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ’’براہ راست نازی پلے بُک یوجینکس‘‘ سے لیا گیا ہے جس میں ایک متنازعہ خیال کو بیان کیا گیا ہے کہ انسانی نسل کو مخصوص طریقہ تولید سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ یہ خیال بیسویں صدی کے آغاز میں کافی مقبول رہا ہے اور نازیوں نے تو اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔

DW.COM