1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی قصابوں کی ہڑتال، غیرقانونی قصائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

بھارتی ریاست اترپردیش میں قصائیوں نے غیر معینہ مدت تک کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب اترپردیش کی حکومت نے غیرقانونی مذبحہ خانوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

شمالی بھارتی ریاست اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاستی انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات کے بعد مذہبی گورو اور سیاستدان یوگی ادیتاناتھ نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے فوراً بعد ادیتاناتھ نے غیرقانونی قصابوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ اُن کی انتخابی مہم کا حصہ بھی تھا۔

بھارت میں گوشت کی دوکانوں پر بیٹھے قصائی زیادہ تر مسلمان ہیں اور گائے کے گوشت کی فروخت یا اُس کو ذبح کرنا ایک انتہائی حساس اور نازک معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے آبائی شہر گورکھ پور میں یوگی ادیتا ناتھ نے ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اُس عزم کا اظہار کیا کہ گائے ذبح کرنے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قصائی بھینس کے بھیس میں گائے کاٹتے پھرتے ہیں اور اُن کی حکومت گائے کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ ہندومت میں گائے کو مقدس خیال کرتے ہوئے اُسے ’گاؤ ماتا‘ قرار دیا جاتا ہے۔

Marokko Mossay (DW/A. Dalaa)

بھارتی ریاست اترپردیش میں غیرقانونی گوشت فروخت کرنے والوں کو کریک ڈاؤن کا سامنا ہے

ریاستی وزیراعلیٰ کے کریک ڈاؤن کے خلاف اترپردیش کے تمام قصائیوں نے غیر معینہ مدت تک کی ہڑتال کل پیر ستائیس مارچ سے شروع کر دی ہے۔ اس ریاست میں بظاہر صرف اکتالیس لائسنس یافتہ مذبحہ خانے موجود ہیں۔ انہی بُوچر ہاؤسز میں بازار میں فروخت کیے جانے والے گوشت کے لیے کسی جانور کو مسلم پرسنل لا کے تحت ذبح کیا جاتا ہے۔ ساری ریاست میں اس کاروبار میں کئی افراد شامل ہیں اور یہ لوگ مذبحہ خانوں کے باہر بھی جانور کاٹنے سے گریز نہیں کرتے۔

 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اترپردیش سارے بھارت میں سب سے زیادہ گوشت پیدا کرنے والی ریاست تصور کی جاتی ہے۔ ریاست کو اس مد میں 1.7 ارب ڈالر کی آمدن سالانہ بنیاد پر ہوتی ہے۔

اترپردیش کے قصابوں کی تنظیم کے مطابق مچھلی فروش بھی اُن کی اس ہڑتال میں شامل ہیں۔ بھارتی ٹیلی وژن نیٹ ورک این ڈی ٹی وی کے مطابق مرغی فروشوں کا کہنا ہے کہ پولیس انہیں بھی ٹارگٹ کرنے میں مصروف ہے۔ اترپردیش کی پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اترپردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں صرف قانون کے مطابق کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے اور قصائیوں سے گوشت فروخت کرنے کا حکومتی اجازت نامہ طلب کرنا اُن کے اختیار میں شامل ہے۔ اترپردیش کی پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے، غیر قانونی قصاب پولیس کے چھاپے کے ڈر میں دوکانیں بند کر کے روپوش ہو گئے ہیں۔