1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی فلم میکرز کی صنفی تعصب زدہ موضوعات سے نمٹنے کی کوشش

عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں’ کم تر‘سمجھنا نہ صرف بھارتی قدامت پسند معاشرے کا المیہ ہے بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں بھی اس فرسودہ روایت کو توڑنے کی کوشش جاری ہے۔ ایسی ہی ایک کاوش بھارتی فلم میکرز کے ایک گروپ نے بھی کی ہے۔

بھارتی شہر ممبئی میں فلم میکرز کا گروپ Girliyapa (گرلی یاپا) ایسے فرسودہ سماجی رویوں کو چیلنج کرنے کی کوشش میں ہے، جن کے تحت خواتین کو صرف ایک جنس تصور کیا جاتا ہے۔

DW.COM

دس ارکان پر مشتمل اس گروپ نے اس سلسلے میں کئی مختصر فلمیں تخلیق کی ہیں، جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر دستیاب ہیں۔ اس موضوع کی حساسیت کے حوالے سے ’گرلی یاپا‘ کو جنسی و صنفی تعصب زدہ حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔

’گرلی یاپا‘ نامی اس فلم میکر گروپ کی سربراہ ٹریسی ڈی سوزا نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری ویڈیوز نصیحت آمیز نہیں ہیں بلکہ ہم نے مزاح کے ایک ماحول میں اپنے پیغام کو مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

اس گروپ نے ’ازدواجی زنا‘ جیسے سنگین مسئلے سے لے کے خواتین کے مخصوص ایام کے حوالے سے فرسودہ روایات کو بھی موضوع بنایا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارتی قوانین کے تحت اس جنوبی ایشیائی ملک میں شوہروں کا اپنی بیویوں کے ساتھ زبردستی جنسی عمل غیر قانونی نہیں ہے۔

اس گروپ کی پانچ مختصر فلمیں گزشتہ برس اکتوبر میں یو ٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھیں، جنہیں اب تک پانچ ملین سے زائد ناظرین دیکھ چکے ہیں۔ ان ویڈیوز میں ڈانس، میوزک اور ہلکے پھلکے انداز میں خواتین کو درپیش سماجی مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔

ان ویڈیوز کے موضوعات اور اسکرپٹ ایسے ہیں کہ ابھی تک کسی بھی ’مین اسٹریم‘ انڈین نیٹ ورک نے انہیں نشر نہیں کیا ہے۔ بھارت میں بڑے بڑے ٹی وی چیلنز میں ابھی تک وہی پرانے انداز کے ڈرامے نشر کیے جا رہے ہیں، جن میں خواتین کو روایتی کرداروں میں قید دکھایا جاتا ہے۔ ساڑھیاں پہنے یہ خواتین ماں یا گھریلو خواتین کے دیگر کرداروں میں ہوتی ہیں، جو اس قدامت پسند معاشرے میں صرف مرد حضرات کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں ہوتی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کی مضبوط فلمی صنعت بالی ووڈ کے بڑے بینر تلے بننے والی فلموں میں بھی خواتین کو انہی فرسودہ روایات کی تابع بننے کا درس دیا جاتا ہے، جہاں عورت مرد کے مقابلے میں ’کمتر‘ ہوتی ہے۔

’گرلی یاپا‘ کی ایک مختصر فلم "How I Raped Your Mother" مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں ’ازدواجی زنا‘ کے موضوع پر گفتگو کی گئی ہے۔ تیرہ منٹ دورانیے کی اس ویڈیو میں ایک روایتی بھارتی گھرانے کو اپنے ہی کبنے کی ایک ایسی خاتون کا مذاق اڑاتے دکھایا گیا ہے، جو اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو شکایت کرتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ زبردستی جنسی عمل کرتا ہے۔

اس طنزیہ ویڈیو میں ماں اپنی بیٹی کو کہتی ہے کہ ’یہ تو شادی کا ایک حصہ ہے‘ جبکہ اس لڑکی کے والد کے خیال میں دراصل یہ ’شدید محبت‘ کی ایک قسم ہے۔ اسی دوران اس فلم میں انتہائی طنزیہ انداز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریپ کی یہ قسم ابھی تک بھارتی قوانین میں شامل نہیں ہے اور اس لیے اس حوالے سے شکایت نہیں کی جا سکتی ہے۔

اس فلم کی اسکرپٹ رائٹر اور مرکزی کردار ادا کرنے والی رتنا بائی بھاٹا چرجی نے اے ایف پی کو اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا، ’’سیاسی بیان سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ریپ کو اجاگر کرنے کے لیے یہ فلم بنائی ہے۔‘‘

’گرلی یاپا‘ کی ایک اور فلم خواتین کے مخصوص ایام پر بنائی گئی ہے۔ ناقدین کے خیال میں ’دی پیریڈ سونگ‘ نامی اس فلم میں اس حساس موضوع پر انتہائی عمدہ طریقے سے بات کی گئی ہے۔ بھارت میں اب بھی ایسی خواتین کا مذہبی مقامات میں جانا یا عبادت کرنا ممنوع ہوتا ہے، جو حیض کی حالت میں ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ گھرانوں میں تو خواتین ان مخصوص ایام کے دوران اپنے گھر میں اپنے بیڈ روم میں بھی نہیں جا سکتی ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیو فلمیں دراصل بھارتی معاشرے میں صنفی امتیاز کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ممبئی میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن ایلسا ڈی سلوا کے بقول ، ’’ڈیجیٹل میڈیا شعور و آگاہی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میڈیم کی وساطت سے صنفی امتیاز کے حوالے سے لوگوں کے روایتی اور فرسودہ رویے تبدیل ہو سکتے ہیں۔‘‘

’گرلی یاپا‘ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی کوئی نئی ویڈیو ریلز کرتی ہے تو انہیں قدامت پسند حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن وہ بے خوف ہو کر خواتین سے جڑے مروجہ فرسودہ سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

اس گروپ سے منسلک معاون رائٹر شُرتی مدن پُر عزم ہیں، ’’ہم اپنی کہانیاں بیان کرنا بند نہیں کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو عورتوں کو حقیر سمجھنے سے متعلق اپنے اجتماعی لاشعور کے باوجود ایک نئے بیانیے کو تسلیم کرنا ہو گا۔