1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی فلم ساز کو ریپ کے جرم میں سات سال کی سزائے قید

بھارت میں بالی وُڈ کے محمود فاروقی نامی ایک فلم ساز کو ایک امریکی خاتون اسکالر کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں سات سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ مجرم نے گزشتہ برس نئی دہلی میں اس خاتون کو ریپ کیا تھا۔

Indischer Bollywood Schauspieler Mahmood Farooqui (Rechts)

بھارتی فلم ساز محمود فاروقی، دائیں، کی جولائی دو ہزار دس میں نئی دہلی میں فلم ’پیپلی لائیو‘ کی پروموشن کی ایک تقریب کے موقع پر لی گئی تصویر، جس میں وہ بالی وُڈ اداکار عامر خان، بائیں، اور انوشا رضوی، درمیان میں، کے ساتھ نظر آ رہے ہیں

نئی دہلی سے چار اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس جرم کا نشانہ بنننے والی خاتون کے وکیل نے بتایا کہ محمود فاروقی کو یہ سزا ایک بھارتی عدالت نے آج جمعرات کے روز سنائی۔

بھارتی دارالحکومت میں اس مقدمے کی تیز رفتار سماعت کرنے والی ایک عدالت اس واقعے میں ملزم محمود فاروقی کو پہلے ہی قصور وار قرار دے چکی تھی۔ آج کی کارروائی میں محمود فاروقی کے لیے سزا کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے اسے سات سال کی سزائے قید کا حکم سنایا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ عدالتی دستاویزات اور مقدمہ دائر کرنے والی خاتون کے وکیل ورندا گروور کے مطابق مجرم محمود فاروقی جس خاتون کے ریپ کا مرتکب ہوا، وہ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تیس سالہ اسکالر تھی، جسے فاروقی نے 2015ء میں 28 مارچ کو نئی دہلی میں اپنے فلیٹ پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

محمود فاروقی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ’پیپلی (لائیو)‘ نامی اس فلم کا شریک فلم ساز تھا، جو ایک طنزیہ کامیڈی تھی، اور جس میں بھارتی کسانوں کی طرف سے خود کشی کے واقعات کی میڈیا کوریج کو موضوع بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ محمود فاروقی اپنے داستان گوئی کے ہنر کی وجہ سے بھی خاصی شہرت رکھتا تھا۔

اس مقدمے میں درخواست دہندہ امریکی اسکالر نے کہا تھا کہ وہ اپنے تحقیقی کام کے دوران محمود فاروقی کو اس کے گھر پر ملی تھی، جس دوران وہ نشے کی حالت میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہوا تھا۔

Symbolbild Gruppenvergewaltigung in Indien

بھارت میں لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ

اس واقعے کے بعد محمود فاروقی نے اس خاتون کو لکھی گئی ای میلز میں اس سے اپنے اس عمل کی معافی بھی مانگی تھی۔ یہی ای میلز بعد میں استغاثہ کی طرف سے فاروقی کے خلاف ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کر دی گئی تھیں۔

بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی حملوں کے واقعات اس وقت سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کہیں زیادہ توجہ حاصل کرنے لگے ہیں، جب 2012ء میں ملکی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک نوجوان طالبہ کو متعدد افراد نے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔ اس جرم کا نشانہ بننے اور ارتکاب جرم کے دوران مجرموں کے ہاتھوں شدید زخمی ہو جانے والی طالبہ بعد ازاں ہسپتال میں انتقال کر گئی تھی۔

بھارت میں وسیع تر احتجاجی مظاہروں کی وجہ بننے والے اس واقعے کے بعد سے حکومت جنسی زیادتی سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنا چکی ہے لیکن وہاں ابھی بھی آئے روز عورتوں کے ریپ کے واقعات پیش آتے ہیں۔

DW.COM