1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی فلم ساز بھنسالی کو انتہا پسندوں کا سامنا، فلم کی شوٹنگ درہم برہم

بھارت کے ایک مشہور ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی نئی فلم کی عکس بندی کے دوران مقامی انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے اداکاروں اور ہدایت کاروں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

بھارتی علاقے راجستھان میں مشہور ہدایت کار اور پروڈیوسر سنجے لیلا بھنسالی اپنی نئی فلم ’پدماوتی‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے کہ مقامی انتہا پسند راجپوتوں نے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں بھنسالی کو انتہا پسند راجپوتوں نے ہلکا پھلکا مارنے پیٹنے کے سلاتھ ساتھ ڈرایا اور دھمکایا بھی۔ حملہ آوروں نے فلم کی عکاسی کے آلات بھی توڑ پھوڑ دیے۔

ملہ کرنے والے گروپ کا نام راجپوت کرنی سینا بتایا گیا ہے۔ اس گروپ کا خیال ہے کہ بھنسالی اپنی فلم میں اُن کے علاقے کی ملکہ پدماوتی یا پدمنی کے حوالے سے جس کہانی کو سیلولائیڈ پر منتقل کر رہے ہیں اُس سے علاقے کی ملکہ سے جڑی تاریخ مسخ ہو گی۔ اس گروپ کے مطابق فلم میں راجپوتوں کی ملکہ کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا ہے اور یہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

سنجے لیلا بھنسالی اپنی فلم کی شوٹنگ راجستھان کے علاقے چتوڑ میں جاری رکھے ہوئے تھے۔ راجپوت کرنی سینا نے فلم کی تفصیلات میڈیا پر آنے کے بعد سے اِس کی مخالفت شروع کر رکھی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق فلم میں بھنسالی نے ایک ایسا رومانی سین بھی پیش کیا ہے جس میں علاء الدین خلجی اور پدماوتی انتہائی قریب قریب دکھائے گئے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس رومانٹک سین کی خبر عام ہونے کے بعد انتہا پسند راجپوتوں نے فلم کے عملے اور بھنسالی پر حملہ کیا۔

بھنسالی کے پروڈکشن ہاؤس کی چیف ایگزیکٹو شوبھا سانت کا کہنا ہے کہ فلم میں ایسا رومانٹک سین قطعاً موجود نہیں اور نہ ہی ایسے کسی منظر کی عکاسی کی گئی ہے۔ مقامی پولیس نے بعض حملہ آوروں کو حراست میں لیا ضرور لیکن پوچھ گچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔ کرنی سینا کے ایک اہل کار ماہی پال سنگھا مکرانا نے واضح کیا ہے کہ وہ بھنسالی کو راجپوتوں کی تاریخ مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

راجپوتوں کی ملک پدماوتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے سلاطین دہلی سے تعلق رکھنے والے مسلمان جنگ جو سردار اور خلجی خاندان ک بادشاہ علاء الدین خلجی کے سامنے ہتھیار پھینکنے کے بجائے اپنی سینکڑوں خواتین کے ہم راہ جلتی ہوئی آگ میں پناہ لے کر اپنی جان دے دی تھی۔ یہ واقعہ سن 1307 کے دور کا ہے۔ راجستھان میں پدماوتی کے حوصلے سے جڑی اس داستان کو لوک کہانیوں کا درجہ حاصل ہے۔

معروف بھارتی فلمی شخصیات نے بھنسالی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

DW.COM