1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی فلمی ستارے، شہرت کے آسمان سے سیاست کے میدان تک

بھارتی عوام میں مقبول فلمی ستاروں کے سیاست کے میدان میں اترنے کی داستان کوئی نئی نہیں۔ دلیپ کمار ہوں یا امیتابھ بچن بے شمار ستارے انتخابات میں اپنی قسمت آزمائی کر چکے ہیں۔

default

عامر خان انتخابات کے حوالے سے اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران

کئی ستارے لوک سبھا میں اپنی جگہ بنانے میں بھی کامیاب رہے اور کچھ کو اس میدان میں کچھ ہاتھ نہ آیا۔ تاہم یہ سلسلہ ہے کہ کہیں رکتا دکھائی نہیں دیتا۔

بھارت میں رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں اس بار بھی کئی فلمی ستارے انتخابی سرگرمیوں میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی بھارتی فلمی ستارے کروڑوں ووٹروں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے اکسانے کی مہم پر بھی نکلے ہوئے ہیں۔

Filmstar und Bollywood Schauspieler Sanjay Dutt spricht mit der Presse

بھارتی فلم سٹار سنجے دت کو عدالت عظمی نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا پابند کردیا ہے

سپر سٹار عامر خان اور 2006 میں سپر ہٹ ہونےوالی فلم ’’رنگ دے بسنتی‘‘ کے ہدایت کار راکش مہرا نے ملک کر ٹی وی کے لئے ایک ایک منٹ کی تین اشتہاری فلمیں بنائی ہیں جن کا مرکزی پیغام ہے ’’ استحکام کے لئے ووٹ دیں، اچھے لوگوں کو ووٹ دیں‘‘۔

عامر خان نے کہا : ’’ ممبئی حملوں نے بھارت کو بدل دیا ہے۔ اب عوام زیادہ حساس ہوگئے ہیں اور ان کی سیاستدانوں سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ میرے خیال میں یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ صحیح امیدواروں کو ووٹ دیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’ میں کسی پارٹی یا کسی خاص نظریہ کو مشتہر نہیں کر رہا میرا مقصد صرف یہ ہے کہ عوام صحیح امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔‘‘

کئی بار سیاست میں بولی وڈ کے فلمی ستاروں نے نہ صرف بھارت میں مثبت تبدیلیوں کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ عوام میں سیاسی شعور آگاہی کے لئے بھی سالوں سے جدوجہد میں مصروف ہیں۔‘‘

Schauspieler Amitabh Bacchan

نامور بولی وڈ اسٹار امیتابھ بچن

حال ہی میں انتخابات میں حصہ لینے پر سنجے دت کی پابندی اور گووندہ کی انتخابات سے دستبرداری جیسے معاملات کے ساتھ ساتھ کئی بار یہ فلمی ستارے سیاسیت کی بام اوج تک بھی پہنچے۔ سنجے دت کے والد سنیل دت کانگریس کی طرف سے انیس سو چوراسی میں پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ من موہن سنگھ کی کانگریس جماعت کی حکومت میں انہوں نے بوقت مرگ 2005 تک بطور وزیر بھی خدمات سر انجام دیں۔

دلیپ کمار بھارتی ایوان بالا کے رکن رہے اور ہند و پاک دوستی کے رابطوں کے لئے اہم کردار ادا کیا۔

امیتابھ بچن بھی انیس سو چوراسی میں ریکارڈ ووٹوں سے بھارتی لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ تاہم دو برسوں بعد وہ ایوان کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے۔

ان کے علاوہ بولی وڈ کے سیاست کے میدان میں بھی کامیاب رہنے والے ستاروں میں گووندہ، شترگن سنہا، دھرمندر، ہما مالنی اور ونود کھنہ قابل ذکر نام ہیں۔