1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی فضائیہ میں جنگی پائلٹوں کے طور پر اب خواتین بھی

بھارتی فضائیہ کے ایک جنگی اسکواڈرن میں پہلی بار تین ایسی نوجوان خواتین بھرتی کی گئی ہیں، جو فائٹر پائلٹوں کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔ اس سے پہلے بھارت میں جنگی طیارے اڑانے کے لیے کبھی کوئی خاتون منتخب نہیں ہوئی تھی۔

Russisches Kampfflugzeug Sukhoi Su-30

بھارتی فضائیہ کے روسی ساخت کے سوخوئے ایس یو تیس طرز کے جنگی طیارے

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے ہفتہ 18 جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق انڈین ایئر فورس کی جنوبی شہر حیدر آباد کے نواح میں واقع اکیڈمی میں فضائیہ کے جن کیڈٹس نے آج ہفتے کے روز اپنی تربیت مکمل کی، ان میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

ان خواتین کی عمریں 20 اور 30 برس کے درمیان ہیں اور ان کے نام اوَنی چتُرویدی، موہانا سنگھ اور بھاونا کانتھ ہیں۔ اس پاسنگ آؤٹ تقریب میں ملکی وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی شریک ہوئے اور فضائیہ کی تربیتی اکیڈمی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ خواتین پائلٹس خود کو ’یقینی طور پر بہت اچھا اور پر اعتماد محسوس‘ کرتی ہیں۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ نئی دہلی حکومت نے گ‍زشتہ برس اکتوبر میں ملکی ایئر فورس کے اس منصوبے کی منظوری دی تھی کہ اس کے جنگی اسکواڈرن میں خواتین پائلٹ بھی شامل کی جانا چاہییں۔ اس فیصلے کے بعد شروع میں چھ خواتین کیڈٹس کو عسکری ہوا بازی کی تربیت کے ابتدائی مراحل کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ان ابتدائی مراحل کے بعد فضائیہ کے اعلیٰ افسروں نے صرف تین خواتین کو فائٹر پائلٹس کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے چنا تھا۔

Indien Luftwaffe Archiv

انڈین ایئر فورس میں پہلے سے شامل سو سے زائد خواتین پائلٹس صرف مال بردار طیارے اور ہیلی کاپٹر اڑاتی ہیں

انڈین ایئر فورس اکیڈمی کے ترجمان کے بقول ملکی فضائیہ میں جنگی پائلٹوں کے طور پر خواتین کی بھرتی کا یہ عمل اب تک صرف تجرباتی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے اور پانچ سال بعد اس منصوبے کی کامیابی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس عمل کو جاری رکھا جانا چاہیے۔

بھارت میں، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، 100 سے زائد خواتین پہلے ہی پائلٹوں کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ لیکن یہ خواتین یا تو مال بردار طیارے اڑاتی ہیں یا پھر نیویگیشن اور ایروناٹیکل انجینیئرنگ کے شعبوں میں مختلف طرح کے ہیلی کاپٹر۔ ان میں سے کوئی بھی خاتون پائلٹ ایسی نہیں ہے، جو اپنے ملک کے لیے لڑاکا طیارے اڑاتی ہو یا جسے کسی فضائی جنگی مشن میں حصہ لینے کی اجازت ہو۔

ڈی پی اے کے مطابق جن تین خواتین کیڈٹس نے آج پاس آؤٹ کیا، انہیں اب ایک سال تک اپنے اکثریتی طور پر مرد ساتھیوں کے ہمراہ ’ہاک‘ طرز کے فائٹر طیاروں کے پائلٹوں کے طور پر جنگی مشنوں کی تربیت حاصل کرنا ہو گی۔

اس طرح انہیں وہ عملی مہارت حاصل ہو سکے گی، جس کے بعد یہ خواتین پائلٹس فرانسیسی ساخت کے میراج دو ہزار اور روسی ساخت کے سوخوئے 30MKI طرز کے بڑے اور کثیر المقاصد جنگی طیارے اڑانے کے قابل ہو جائیں گی۔

DW.COM