1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

بھارتی عوام کلماڈی پر غصہ اتارنے لگے

بھارت میں دولت مشترکہ کھیلوں کے زیر حراست سابقہ منتظم اعلیٰ سُریش کلماڈی ان دنوں بھارتی عوام کے طیش کا مرکزی نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ان بین الاقوامی کھیلوں کے ناقص انتظام کے سبب بھارت کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی تھی۔

default

پیر کے روز ان کی گرفتاری کے بعد حکمران کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے کلماڈی پر جوتا اچھالنے اور ان کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کلماڈی آٹھ دنوں کے لیے مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کی تحویل میں ہیں۔ ان کے ساتھ دولت مشترکہ کھیلوں کے شریک منتظم اعلیٰ اے ایس وی پرشاد، اور سابق نائب منتظم اعلیٰ سُر جیت لال کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے۔

سی بی آئی کا کہنا ہے کہ کلماڈی ان سے تعاون نہیں کر رہے اور حقائق کو مخفی رکھ رہے ہیں۔ کلماڈی بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے بھی گزشتہ پندرہ سال سے سربراہ چلے آرہے تھے۔ اب ان کی جگہ وجے کمار ملہوترہ نامی ان کے نائب کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ یہ عہدہ اس تناظر میں خاصا اہم ہے کہ بھارت 2020ء کے گرمائی اولمپکس کی میزبانی کا خواہش مند ہے۔

اپنے ہاں دولت مشترکہ کے بین الاقوامی مقابلے منعقد کرواکر نئی دہلی حکومت بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تاہم بد انتظامی کے سبب نہ صرف اس پر اٹھنے والی متوقع لاگت میں تین گنا اضافہ ہوا بلکہ عالمی سطح پر رسوائی بھی ہوئی۔

Indien Commonwealth Games 2010

کلماڈی دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کے موقع پر

گزشتہ سال اکتوبر میں دہلی منعقدہ دولت مشترکہ کھیلوں کے آغاز سے قبل ہی 66 سالہ کلماڈی پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئی تھیں۔ اسٹیڈیمز کی تعمیر یا تزئین میں تاخیر، بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے غیر معیاری سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات کے وجہ سے وہ تنقید کی زد میں رہے۔ معاملہ اس وقت زیادہ سنجیدہ شکل اختیار کرگیا جب ان کے خلاف مالی بد عنوانی کے الزامات سامنے آئے۔

کہا جارہا ہے کہ کلماڈی نے 141 کروڑ بھارتی روپے خرچ کرکے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے ٹائمنگ اور سکورنگ کے آلات خریدے جن کی اصل مالیت اس سے بہت کم تھی۔ بھارتی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ کلماڈی نے نہ صرف یہ آلات مہنگے داموں خریدے بلکہ ایسی کمپنیوں کی راہ بھی روکی جو بولی کے عمل میں شریک تھیں۔

بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے متعدد بڑے سکینڈل سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم من موہن سنگھ پر شدید دباؤ ہے کہ وہ ان کے سدباب کا عملی مظاہرہ کریں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس