1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی طالب علم کا قتل، آسٹریلوی نوجوان کا اعتراف جرم

ایک آسٹریلوی نوجوان نے میلبورن میں بھارتی طالب علم کو چھرا گھونپ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اُسے یہ حملہ کرنے کی وجہ سے عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

default

آسٹریلیا میں نسل پرستی کے خلاف بھارت میں سٹوڈنٹس احتجاج کرتے ہوئے

سولہ سالہ آسٹریلوی نوجوان کا بدھ کے روز وکٹورین سپریم کورٹ میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس نے بھارتی طالب علم نِتن گارگ کو قتل کرنے اور لوٹنے کی کوشش کی تھی۔ گارگ کو گزشتہ برس آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبورن کے ایک پارک میں قتل کر دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف آسٹریلوی نوجوان کی شناخت کم عمر ہونے کی وجہ سے ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ آسٹریلوی نوجوان کو جون میں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جون میں اس کو سزا سنا دی جائے گی۔ سن 2009 اور دو ہزار دس میں میلبورن میں بھارتی طالب علموں پر مسلسل حملے کیے گئے تھے، جن میں کئی بھارتی طالب علم ہلاک ہوئے تھے۔

Student Indien Universität Delhi

آسٹریلیا میں تقریباً نوے ہزار بھارتی طالب علم پڑھنے آئے ہوئے ہیں

آسٹریلیا میں نسل پرستانہ رجحان اور تفریق کے آثار بہت کم دکھائی دیتے ہیں لیکن کچھ عرصے سے وہاں کی سفید فام آبادی میں پیدا ہونے والے ایسے رویے سے تشویش پائی جانے لگی ہے۔ آسٹریلوی حکومت اس معاملے پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔

بھارتی طلبہ کا خیال ہے کہ وہ نسل پرستانہ پرتشدد واقعات کا باقاعدگی سے نشانہ بن رہے ہیں۔ بھارتی طالب علموں کے اِس تصورسے آسٹریلوی پولیس متفق نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بھارتی طلبہ رات گئے غیر محفوظ علاقوں سے جب لوٹتے ہیں تو وہ آوارہ اور جرائم پیشہ افراد کا نشانہ بن جاتے ہیں، جو ان سے موبائل فون یا ایم پی تھری وغیرہ چھین لیتے ہیں۔

آسٹریلیا میں بھارتی طلبہ پر تشدد کے مختلف واقعات نے جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات کو متاثر کیا ہے وہیں بھارت کے مشہور اداکار امیتابھ بچن نے سن 2009 میں آسٹریلیا سے ملنے والی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری وصول کرنے سے احتجاجاﹰ انکار کردیا تھا۔ امیتابھ بچن کو کوئنز لینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی جانب سے اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ آسٹریلیا میں ایجو کیشنل اکانومی ملکی اقتصادایت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آسٹریلوی حکومت اِس مد میں سالانہ بارہ ارب ڈالر سے زائد کما رہی ہے۔ سارے آسٹریلیا میں تقریباً نوے ہزار بھارتی طالب علم پڑھنے آئے ہوئے ہیں۔ طالب علموں پر حملوں کے بعد بھارتی میڈیا کے ایک حصے میں آسٹریلیا کو ایک نسل پرستانہ ملک کے طور پر بھی پیش کیا گیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM