1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی صدر چین کے دورے پر

بھارتی صدر پراتیبھا پاٹیل نے آج بدھ کے روز چین کے چھ روزہ دورے کا آغاز کیا۔ اس دورے کے دوران متوقع طور پر کئی معاہدوں پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔

default

بھارتی صدر: فائل فوٹو

وزارت خارجہ کے مطابق وہ جمعرات کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب ہم منصب ہو جن تاو سے ملاقات کریں گی اور دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے جاری سرحدی تنا‍زعے کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ نیروپاما راؤ نے صدر پراتیبھا پاٹیل کے چین کے دورے کے بارے میں کہا : ’’یہ دورہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ ہم چین کے ساتھ اپنے علاقائی اور باہمی امداد کے تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ متعدد معاہدوں پر پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے اور اس دورے کے دوران ان پر دستخط ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سو کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

بھارتی حکام کے مطابق سیاسی مسائل پر تبادلہ خیال، ثقافتی سفارتکاری اور

Manmohan Singh und Hu Jintao

بھارتی وزیر اعظم اور چینی صدر برازیل میں: فائل فوٹو

اقتصادی تعاون اس دورے کے اہم نکات ہیں۔ اس سفر کے دوران سینئیر سیاستدان اور 60 کاروباری شخصیات صدر پراتیبھا پاٹیل کے ہمراہ ہیں، جوکسی بھی بھارتی صدر کا اس دھائی میں چین کا پہلا سفر ہے۔ یہ صدارتی وفد نیشنل پیپلز کانگریس کے صدر ووبانگوو اور وزیراعظم وین جیاباؤ سے بھی ملاقات کرے گا۔

صدر پراتیبھا پاٹیل اس سفر کے دوران لویانگ شہر میں بدھ مت کے بھارتی طرز کے ایک مندر کا افتتاح کریں گی اور شنگھائی کے عالمی نمائشی میلے میں بھی شرکت کریں گی۔

ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور 1962ء میں سرحدی تنازعےپر دونوں ملکوں کے درمیان ایک جنگ بھی ہوچکی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ دو علاقوں پر ہے۔ بھارت کی شمالی ریاست اروناچل پردیش کا علاقہ ، جس پر چین کے مطابق بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے اور بھارت کے مطابق اس کے زیرانتظام جموں وکشمیر کے ساتھ ملحق علاقہ چین نے طاقت کے ذریعے اس علاقے پر قبضہ جما رکھا ہے۔

رپورٹ : بریخناصابر

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM