1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی شہریوں کو جگہ جگہ پان کی پیک تھوکنے سے دیوتا روکیں گے

بھارت میں سرکاری عمارات میں لوگوں کا جگہ جگہ تھوکنا ایک شدید مسئلہ ہے جس کے خلاف اب ’دیوتاؤں کی مدد‘ طلب کر لی گئی ہے۔ سب سے زیادہ آبادی والی بھارتی ریاست اتر پردیش میں اب ہندو دیوتا عام لوگوں کو اس کام سے روکیں گے۔

ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ اکتیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی معاشرے میں جگہ جگہ اور خاص طور پر سرکاری عمارات کے مخصوص کونوں اور دیواروں پر پان کھانے کے عادی شہریوں کی طرف سے پیک اگلنا ایسی گندگی کا باعث بنتا ہے، جو سماجی اور جمالیاتی دونوں سطحوں پر حکام کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔

اس سلسلے میں جب دیگر بہت سے طریقے کارآمد ثابت نہ ہوئے تو اتر پردیش میں حکام نے اب بہت سی حکومتی عمارات کے ’غلط استعمال ہونے والے کونوں اور دیواروں‘ پر ہندوؤں کے دیوتاؤں اور دیویوں کی تصویروں والی ٹائلیں لگا دی ہیں تاکہ ایسی تصویریں دیکھ کر لوگ وہاں پان کی پیک اگلنے سے اجتناب کریں۔

ریاست یو پی کے دارالحکومت لکھنؤ سے قریب 225 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع شاہجہان پور میں حکام نے اس بہت شدت اختیار کر چکے سماجی مسئلے کے حل کے لیے کئی ’پرخطر‘ عمارات کی دیواروں پر ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کی تصاویر والی جو ٹائلیں لگا دی ہیں، ان کے بارے میں ایک ضلعی اہلکار ٹی کے شیبُو نے بتایا، ’’ہم نے ایسے مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے، لوگوں کو اس کام سے باز رکھنے کے لیے سرکاری عملہ بھی تعینات کیا لیکن ان اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔‘‘

Bildergalerie Gold in Indien Göttin Laxmi (imago/imagebroker)

اتر پردیش کے ضلع شاہجہان پور میں اب لوگوں کو جگہ جگہ پان کی پیک تھوکنے سے روکنے کا کام ہندو دیوی دیوتا کریں گے

اس سرکاری اہلکار نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا، ’’اب ہم یہ تجربہ کر رہے ہیں۔ سرکاری عمارات کے جن حصوں میں لوگ پان کی پیک سب سے زیادہ تھوکتے تھے، وہاں ہم دیوی دیوتاؤں کی تصاویر والی ٹائلیں لگوا رہے ہیں۔‘‘ شاہجہان پور کے اس ڈسٹرکٹ اہلکار کے مطابق بھگوان کو دیکھ کر لوگ کم از کم وہاں اس کام سے شاید باز آ جائیں۔

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ شاہجہان پور میں حکام نے یہ قدم گزشتہ ہفتے کے ایک واقعے کے بعد اٹھایا ہے۔ اتر پردیش میں ابھی حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے شعلہ بیان ہندو پنڈت یوگی ادتیاناتھ ریاستی وزیر اعلیٰ بنے تھے۔

یوگی ادتیاناتھ نے پچھلے ہفتے لکھنؤ میں ایک ایسا سرکاری دفتر دیکھا جہاں جگہ جگہ دیواروں اور فرش پر پان کی پیک کے سرخ نشانات پڑے ہوئے تھے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے سرکاری دفاتر والی عمارات میں پان کھانے اور تمباکو چبانے پر پابندی کا اعلان کر دیا تھا۔

بھارت کے کئی شہروں اور قصبوں میں عام لوگوں کی طرف سے ’مجبوری کے کسی لمحے میں‘ عوامی مقامات پر پیشاب کر دینا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماضی میں ایسے متعدد شہروں میں بھی اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا تھا کہ حکام نے ’بدبو دار دیواریں اور کونے‘ صاف کروا کر وہاں ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کی تصاویر بنوا دی تھیں۔