1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی سوپ ’پہرے دار پیا کی‘ نے تنازعہ کھڑا کر دیا

بھارتی ٹیلی وژن سوپ اوپرا ’پہرے دار پیا کی‘ میں ایک دس سالہ بچے کی انیس سالہ لڑکی کے شادی کے معاملے پر بھارتی ناظرین نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے پر پابندی عائد کی جائے۔

بھارت میں ٹیلی وژن شو ’پہرے دار پیا کی‘ گزشتہ ماہ سے دکھایا جا رہا ہے۔ سونی انٹرنیشنل ٹیلی وژن کی یہ پیشکش ہر ویک اینڈ پر ساڑھے آٹھ بجے نشر کی جاتی ہے۔ اس شو میں ایک دس سالہ بچے کی انیس سالہ لڑکی سے شادی کو بہت حوصلہ افزاء انداز میں موضوع بنایا گیا ہے، جو کئی ناظرین کے نزدیک بچوں کی شادیوں کی ترویج و فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔

آرٹ اور فحاشی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کی ضرورت ہے

’گيتا تو گھر چلی گئی، ميرا بيٹا بھی لوٹا دو‘

مقدس دن بچوں کی شادیاں روکنے کے لیے خصوصی انتظامات

ویڈیو دیکھیے 01:50

جرمنی میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی

انسانی حقوق کی ادارے change.org نے بدھ کے دن ہی اس شو کے خلاف ایک آن لائن عوامی پٹیشن پیش کی، جس پر صرف اڑتالیس گھنٹوں کے دوران یعنی جمعرات کے دن تک ہی پچاس ہزار افراد دستخط کر چکے ہیں۔

مذکورہ پٹیشن میں وزیر اطلاعات سمرتی ایرانی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس شو پر پابندی عائد کریں۔

اس ادارے سے وابستہ مانسی جین نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا کہ اس ڈرامے کو دیکھنے والوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز سے وابستہ پروفیسر آشا باجپائی کے خیال میں یہ شو جس انداز میں بچوں کی شادیوں کی ترغیب دے رہا ہے، وہ معاشرے کے لیے انتہائی منفی ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا، ’’اُس بچے کے بارے میں کیا کہا جائے، جو ایک شوہر کا کردار ادا کر رہا ہے؟ ہم اس بچے کے ذہن میں کس طرح کے خیالات بھر رہے ہیں؟‘‘

بھارت میں شادی کے لیے لڑکیوں کی قانونی عمر اٹھارہ سال جبکہ مردوں کی اکیس برس ہے۔ اگرچہ بھارت میں بچوں کی شادی کا غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے اس کے باوجود اس قدامت پسند ملک کے کئی علاقوں میں بچوں کی شادیوں کا رحجان کافی زیادہ ہے۔

بھارتی حکام نے بچوں کی شادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے لیکن ’پہرے دار پیا کی‘ جیسے ڈرامے بھارت میں ان کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف اس شو کے مرکزی کرداروں نے سوشل میڈیا پر اس کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف انٹرٹینمنٹ ہے اور یہ بچوں کی شادیوں کو فروغ دینے کی کوشش نہیں ہے۔ سونی انٹرنیشنل ٹیلی وژن کے حکام ابھی تک اس بحث کے حوالے سے کوئی بیان دینے سے قاصر رہے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic