1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی سرکاری ریڈیو سے بلوچی زبان میں خبریں نشر کرنے کا فیصلہ

بھارت کے سرکاری ریڈیو اسٹیشن کے پروگرام اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی سنے جا سکیں گے۔ اس ریڈیو سروس سے بلوچستان کے عوام کے لیے ’بلوچی‘ زبان میں بھی جلد خبریں نشر کی جائیں گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بلکہ پاکستانی صوبے پنجاب کے بھی کچھ حصوں میں سنے جا سکیں گے۔ بھارت کے اخبار ’اکنامک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق آل انڈیا ریڈیو میں بلوچی سروس ویسے تو سن 1974 سے جاری ہے لیکن اب یہ ریڈیو اسٹیشن باقاعدہ بلوچی زبان میں خبریں نشر کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما میم افضل اس بارے میں کہتے ہیں،’’میری رائے میں یہ فیصلہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہے، دیکھنا ہو گا کہ وہ کس قسم کی خبریں نشر کریں گے، میری نظر میں اس میں کوئی اعتراض کرنے کی بات نہیں ہے۔‘‘ واضح رہے کہ یہ فیصلہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 15 اگست کے اُس خطاب کے بعد کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا تھا۔ تب مودی کو اسلام آباد کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا تھا،’’بلوچستان، گلگت اور پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کے عوام میرے شکر گزار ہیں اور بھارتی عوام کے لیے انہوں نے نیک تمنائیں بھیجی ہیں۔‘‘

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل فیاض شہریار نے بھارت کے ایک یونین منسٹر آف اسٹیٹ ڈاکٹر جتیندر سنگھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب آل انڈیا ریڈیو کے ’جموں و کشمیر اسٹیشن‘ سے صاف آواز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ریڈیو سنا جا رہا ہے اور اب جموں اسٹیشن کے پروگرام لاہور میں بھی سنے جا سکیں گے۔

فیاض شہریار نے یہ بھی بتایا کہ آل انڈیا ریڈیو کا بیرونی نشریاتی شعبہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے عوام کے لیے بلوچی زبان میں نیوز بلیٹن کا جلد آغاز کرے گا۔

DW.COM