بھارتی سرکاری بینک کی جانب سے 1.8ارب ڈالر کے فراڈ کا انکشاف | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی سرکاری بینک کی جانب سے 1.8ارب ڈالر کے فراڈ کا انکشاف

بدھ کے روز بھارت کے دوسرے سب سے بڑے سرکاری بینک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی ایک شاخ سے تقریبا 1.8 ارب ڈالر کی دھوکہ دہی کی گئی ہے۔

'پنجاب نیشنل بینک' کے مطابق  1.77 ارب ڈالر کی یہ رقم چند کھاتے داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے منتقل کی گئی تھی۔ دھوکہ دہی کا یہ واقعہ  بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی کی اس بینک کی ایک  شاخ پیش آیا ہے۔ بینک کی جانب سے فراڈ کی مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

تاہم پنجاب نیشنل بینک نے مشتبہ کھاتے داروں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

رشوت لینے میں بھارت ’سب سے‘ آگے

Indien Währung Banknoten Geld Rupee (AP)

بلومبرگ نیوز کے مطابق غیر قانونی طور پور منتقل کی گئی یہ رقم اس بینک کی گزشتہ سال کی آمدنی سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ممبئی سٹاک ایکسچینج میں بینک کے شیئرز سات اعشاریہ پینتالیس فیصد گر گئے ہیں۔

کروڑوں کا فراڈ: لالو پرشاد یادو پر مقدمہ چلانے کا عدالتی حکم

یہ خبر اس موقع پر سامنے آئی ہے جب بھارتی حکومت کی جانب سے مشکلات کے شکار قرض دہنندگان پر سے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے حال ہی میں سرکاری بینکوں کے ریکارڈ میں موجود بدعنوانی کو درست کرنے کے لیے بتیس ارب ڈالرکے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

DW.COM