1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں، دو ہزار سے زائد لاشیں برآمد

بھارتی انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بے نشان قبروں سے دو ہزار کے قریب کی لاشیں ملی ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ لاشیں علیحدگی پسند کشمیریوں کی ہیں۔

default

رپورٹ میں کے مطابق ممکنہ طور اِن لاشوں میں ان افراد کی لاشیں بھی ہو سکتی ہیں، جو بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔ کمیشن میں بتایا گیا ہے کہ یہ قبریں شمالی کشمیر کے مختلف مقامات پر ملی ہیں۔ یہ کمیشن سن 1997 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

Kaschmir Kashmir Indien Polizei Protest Demonstration Muslime Steine

بغاوت کے الزام میں گرفتار ہونے والے آٹھ ہزار کشمیری ابھی تک لاپتہ ہیں

سری نگر میں قائم انسانی حقوق کی ایک تنظیم آئی پی ٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بغاوت کے الزام میں گرفتار ہونے والے آٹھ ہزار کشمیری ابھی تک لاپتہ ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بھارتی اور انٹرنیشنل تنظیموں نے نئی دہلی حکومت سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ ملنے والی لاشوں میں کتنے لاپتہ شہری شامل ہیں۔

بھارتی حکومت بار بار یہ دعوی کرتی آئی ہے کہ بے نشان قبریں پاکستانی عسکریت پسندوں کی ہیں، جو سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دریں اثناء بھارت حکومت کی طرف سے یہ بھی دعویٰ سامنے آتا رہا ہے کہ لاپتہ کشمیری شہریوں کی ایک بڑی تعداد سرحد عبور کرنے کے بعد پاکستانی جنگجوؤں سے جا ملی ہے۔

Indien Kaschmir Demonstranten in Srinagar Flash-Galerie

گزشتہ برس احتجاجی مظاہروں کی دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 110 سے زائد شہری مارے گئے تھے

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں دو ہزار سات سو تیس نامعلوم افراد کی لاشیں پولیس کی طرف سے مقامی باشندوں کے حوالے کر دی گئی تھیں تاکہ ان کی تدفین کی جا سکے۔ ان میں سے 574 افرد کی  لاشوں کو ان کے رشتہ داروں کی طرف سے پہچان لیا گیا تھا۔

یہ رپورٹ ایک گیارہ رکنی ٹیم کی طرف سے تیار کی گئی ہے، جس کی سربراہی ایک سینئر پولیس افسر کر رہے ہیں۔

اسی طرح یو ٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں بھارتی فورسز کو ایک مبینہ عسکریت پسند پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو آٹھ جولائی کو بنائی گئی تھی، جس دن بھارتی سکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ اس مبینہ عسکریت پسند کو گرفتار کیے جانے کی بجائے سکیورٹی فورسز کی طرف سے اس پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس احتجاجی مظاہروں کی دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 110 سے زائد شہری مارے گئے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1989ء کے بعد سے لے کر اب تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 47 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

 

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM