1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں تازہ جھڑپیں، 100 زخمی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آج اتوار کے روز ہونے والی تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں قریب ایک سو مظاہرین زخمی ہو گئے۔ حکومتی فورسز نے ہزارہا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور چھروں والی بندوقوں کا استعمال کیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشمیری مظاہرین نے ایک حکومتی دفتر جلا دیا اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ آج اتوار چار ستمبر کو تازہ جھڑپوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب ایک علیحدگی پسند گروپ کی اپیل پر ضلع شوپیاں کے ایک گاؤں کی طرف مارچ کرنے والے کشمیریوں کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی۔ یہ علاقہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے اہم شہر سری نگر سے 70 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

کشمیری رہنماؤں کا بھارتی ارکان پارلیمان سے ملنے سے انکار

آج اتوار ہی کے روز مرکزی کشمیری رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے بھارتی ارکان پارلیمان کے ایک گروپ سے ملاقات سے انکار کر دیا۔ نئی دہلی سے ارکان پارلیمان کا یہ گروپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بحران کے شکار اس متنازعہ خطے میں حالات بہتر کرنے کے مقصد سے سری نگر پہنچا تھا۔

کشمیری رہنماؤں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت ’’لوگوں کے بنیادی مسئلے، جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت‘‘ پر بات کرے۔

کرفیو اور سخت اقدامات کشمیریوں کا احتجاج روکنے میں ناکام

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے طویل کرفیو، رابطوں کو منقطع کرنا اور کریک ڈاؤن حالیہ برسوں کے دوران بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے سب سے بڑے احتجاج کے سلسلے کو روکنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ احتجاج کا یہ سلسلہ رواں برس آٹھ جولائی کو علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا تھا۔ اُس وقت سے اب تک ہزارہا افراد سکیورٹی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قریب روزانہ کی بنیاد پر بھارتی اقتدار کے خاتمے کے لیے احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور اس دوران ان کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 70 سویلین ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ سے ہوئیں۔ اس دوران بھارتی پولیس کے دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

کشمیر کا خطہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے اور دونوں ہی ملک اس پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زیادہ تر کشمیری، کشمیر پر بھارتی اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں اور آزادی یا پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔