بھارتی زیر انتظام کشمیر میں برفانی تودہ گرنے سے 11 ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں برفانی تودہ گرنے سے 11 ہلاک

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں برفانی تودے کی زد میں آ کر کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ لوگ ان گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے جو برفانی تودے کی زد میں آ گئیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے سادھنا ٹاپ کے علاقے میں جمعہ پانچ جنوری کی شب برفانی طوفان کے سبب وہاں سے گزرنے والی گاڑیاں برف تلے دب گئیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار خالد جہانگیری نے ڈی پی اے کو بتایا کہ پولیس، فوج اور ہنگامی حالات سے نمٹنے والے محکمے کے اہلکاروں نے امدادی کاموں کا آغاز کر دیا اور ہفتے کی شب ختم ہونے والی امدادی سرگرمیوں کے دوران 11 لاشوں کو نکال لیا۔

ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین اور ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کے دوران دو افراد کو زندہ نکالا گیا جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جہانگیری کے مطابق امدادی کاموں کے دوران شدید مشکلات پیش آئیں جس کی وجہ خراب موسم اور جما دینے والا درجہ حرارت تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کشمیر کے خطے میں برفانی طوفان اور تودے گرنے کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ 2012ء میں پاکستانی زیرانتظام سیاچن گلیشیئر کے علاقے میں برفانی طوفان کی زد میں آ کر 140 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے 129 پاکستانی فوجی تھے۔

Indien Kaschmir Lawinenabgänge

کشمیر کے خطے میں برفانی طوفان اور تودے گرنے کے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق کشمیر میں بدھ تین جنوری سے جاری شدید برفباری کو جمعہ کے روز برفانی تودے گرنے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے اس خطے میں مزید برفانی تودے گرنے کے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے اور مقامی افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔