1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ’ریپ گرو‘ کو دس برس قید کی سزا، سکیورٹی انتہائی سخت

بھارت میں جنسی زیادتی کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے ہندو مذہبی رہنما گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کو آج پیر کو عدالت نے دس برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ ہنگاموں کے خدشات کے تحت سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایک بھارتی عدالت نے گرو رام رحیم سنگھ کو جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت دس برس قید کی سزا سنای دی ہے۔ اس سے قبل گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کو مجرم قرار دینے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور اس دوران 36 افراد مارے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گرو اس وقت شمالی بھارتی شہر روہتک میں قید ہیں اور انہیں سزا بھی یہیں سنائی گئی۔ تاہم تشدد کے واقعات کے خدشات کے تناظر میں حکام نے مقامی آبادی سے کہا ہے کہ وہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ تشدد کے خدشات ہی کے تحت گرو کے فرقے کے چند سینیئر عہدیداروں کو بھی احتیاطی طور پر زیرحراست رکھا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا موقف ہے کہ ان کے گرو بے گناہ ہیہں، تاہم عدالت جمعے کے روز اپنے دو پیروکاروں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کے تحت اس گرو کو مجرم قرار دے چکی ہے۔ اس گرو کو جیل ہی ہی قائم عدالت نے سزا کا حکم سنایا۔

Indien Panchkula - Ausschreitungen Unterstützer des religiösen Führers Gurmeet Ram Rahim Singh (Getty Images/AFP/M. Sharma)

تشدد کے واقعات میں تیس سے زائد افراد مارے گئے تھے

ایک سینیئر پولیس عہدیدار نے بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات چیت میں کہا، ’’ہم نے کئی تہوں میں سکیورٹی انتظامات کئے ہیں، تاکہ کوئی بھی شخص جیل تک نہ پہنچ سکے بلکہ روہتک ضلعے ہی میں داخل نہ ہو سکے۔‘‘

اس افسر کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں پورا یقین ہے کہ یہ تمام عمل پرامن انداز سے ہو گا اور کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ جمعے کے روز عدالتی فیصلہ گرو کے خلاف آنے پر گرو گرمیت رام رحیم سنگھ کے ہزاروں پیروکاروں نے ہنگامے شروع کر دیے تھے۔ یہ گرو ماضی میں متعدد فلمیں تک بنا چکے ہیں، جن میں وہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد پچاس ملین ہے۔

دوسری جانب گرو رام رحیم سنگھ کی ڈیرہ سچا سودا تحریک کے پنچکولا علاقے میں قائم مرکز میں دو لاکھ افراد جمع ہیں اور وہ سنگھ سے اظہار یک جہتی کر رہے ہیں۔

DW.COM