1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ریستوراں میں گیس سلینڈر پھٹنے سے بیاسی افراد ہلاک

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں آج ہفتے کی صبح کھچا کھچ بھرے ہوئے ایک ریستوراں میں گیس کا ایک سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے خوفناک دھماکے میں کم از کم بیاسی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

Indien Gas Explosion Restaurant

دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ اس کی وجہ سے اس ریستوراں کی عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی

نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ اس کی وجہ سے نہ صرف اس ریستوراں کی عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی بلکہ کئی قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ایک اعلٰی پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ سانحہ ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع جھابوآ کے قصبے پیتلاواڑ میں ایک ایسے ریستوراں میں صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب پیش آیا، جہاں اس وقت بیسیوں کی تعداد میں سرکاری ملازمین اور اسکولوں کے بچے ناشتہ کر رہے تھے۔

جھابوآ میں ڈسٹرکٹ پولیس کی اضافی سپرنٹنڈنٹ سیما الاوا نے تصدیق کی کہ آخری خبریں آنے تک اس ریستوراں کے ملبے اور اس سے ملحقہ عمارتوں سے کم از کم بھی 62 لاشیں نکالی جا چکی تھیں اور 20 لاشوں کی ملبے کے نیچے موجودگی کا پتہ چلایا جا چکا تھا جبکہ امدادی کارکن وہاں ممکنہ طور پر مارے جانے والے دیگر افراد اور زخمیوں کی تلاش ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سیما الاوا نے مزید بتایا کہ اس دھماکے میں انسانی ہلاکتوں کی تعداد اس لیے بھی زیادہ رہی کہ یہ ریستوراں ایک بہت گنجان آباد علاقے میں تھا اور وہاں صبح سویرے ہی سے گاہکوں کا ہجوم لگا رہتا تھا اور آج صبح بھی صورت حال معمول سے مختلف نہیں تھی۔

Indien Gas Explosion Restaurant

دھماکے کے وقت اس ریستوراں میں بیسیوں کی تعداد میں سرکاری ملازمین اور اسکولوں کے بچے ناشتہ کر رہے تھے

اس سانحے کی بھارتی ٹیلی وژن اداروں کی طرف سے نشر کردہ فوٹیج کے مطابق حادثے کے بعد اس ریستوراں کی جگہ پر اور اس کے ارد گرد کی گلیوں میں بہت سی انسانی لاشیں اور جسمانی اعضاء بکھرے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے جبکہ دھماکہ اتنا تباہ کن تھا کہ اس کی وجہ سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں قریب کھڑی بہت سی گاڑیاں بھی جل گئیں۔

بھارت میں گھروں اور دکانوں میں استعمال ہونے والے گیس کے سلینڈر پھٹنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں کیونکہ وہاں اس بارے میں سیفٹی معیارات تسلی بخش نہیں ہیں تاہم ایسے حادثات میں اتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔