بھارتی ریاست آسام میں مصدقہ ملکی شہریوں کی پہلی فہرست جاری | حالات حاضرہ | DW | 01.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ریاست آسام میں مصدقہ ملکی شہریوں کی پہلی فہرست جاری

شمال مشرقی بھارتی ریاست آسام سے مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو نکالنے کے لیے مصدقہ ملکی شہریوں کی پہلی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جس کے بعد بیشتر افراد کو، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، ملک بدری کے خوف کا سامنا ہے۔

حکومت نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات بہت سخت کر دیے ہیں۔ بھارتی حکومت نے اکتیس دسمبر کی نصف شب کو ’نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز‘ کے تحت جو اپنی نوعیت کی پہلی فہرست جاری کی، اس میں آسام میں رہائش پذیر مجموعی طورپر 23.9ملین باشندوں میں سے صرف 19ملین افراد کو بھارتی شہریوں کے طور پر جگہ مل سکی۔ آسام میں جن افراد کے نام اس ریاستی فہرست میں شامل نہیں ہیں، ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ انہیں اب یہ خوف ہے کہ شاید انہیں غیر قانونی رہائشی قرار دے کر ملک بدر کر دیا جائے گا۔

بھارت میں سب سے طویل دریائی پل کا افتتاح

بھارت، گائے کی رکشا کا نیا انداز ’موت‘

بنگلہ دیشی نژاد مسلمانوں کو مہاجرین سمجھا جائے: بی جے پی

رجسٹرار جنرل آف انڈیا شیلیش کمار نے یہ فہرست جاری کرتے ہوئے لوگوں کو یقین دہانی کرائی، ’’کسی کو بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیوں کہ باقی افراد کی شہریت کی درخواستیں ابھی تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔ جیسے ہی تصدیق کا یہ کام مکمل ہو گا، اگلی فہرست جاری کر دی جائے گی۔ اس لیے حتمی فہرست جاری ہونے تک ہر کسی کو صبر و تحمل سے انتظار کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے تاہم حتمی فہرست جار ی کیے جانے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی۔

شیلیش کمار کا کہنا تھا، ’’ہر کام سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہو گا۔ یقین رکھیے کہ یہ پورا عمل 2018 میں مکمل کر لیا جائے گا۔‘‘ اسی دوران نئی دہلی میں ملکی وزارت داخلہ کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ’ نیشنل رجسٹریشن آف سٹیزنز‘ (این آر سی) میں نام شامل کیے جانے کے لیے بھارتی شہریوں کو ابھی اور بھی موقع ملے گا۔ جن کے نام پہلی فہرست میں شامل نہیں، انہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس اہلکار نے کہا کہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جا رہا ہے اور پہلی فہرست کے بعد دوسری اور تیسر ی فہرستیں بھی شائع کی جائیں گی اور ان کے بعد ہی آخری فہرست شائع کی جائے گی۔


آسام میں مصدقہ شہریوں کی پہلی فہرست کے اجراء کے بعد ریاست میں حالات کشیدہ بتائے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ صوبے میں تقریباﹰ ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جب کہ نیم فوجی دستوں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ حکام سوشل میڈیا کی بھی کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ہر طرح کی ممکنہ افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

بھارت: پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج

بھارت: خاک روب کی نوکری کے لیے انتہائی تعلیم یافتہ امیدوار

آسام کے باغیوں کا بانی رہنما بنگلہ دیش سے بھارت کے حوالے

بھارت کے قیام کے بعد سے ہی آسام میں ’غیر قانونی شہریوں‘ کا معاملہ شدید نوعیت کا ایک حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ آسامی زبان بولنے والے مقامی افراد اور بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے مابین تعلقات اکثر کشیدہ رہے ہیں۔ فرور ی 1983 میں وسطی آسام کے نیلی میں دو ہزار سے زیادہ بنگالی بولنے والے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

سن اسّی کی دہائی میں اس وقت کانگریس کی قیادت والی راجیو گاندھی حکومت اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف مہم چلانے والی آسام کی طلبہ تنظیم اسوم گن پریشد کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوا تھا، جس کے تحت 1971 تک آسام آ جانے والے بنگلہ دیشیوں کو تو بھارتی شہریت دی جانا تھی جب کہ باقی افراد کو ملک بدر کیا جانا تھا۔ تاہم اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا تھا۔

Indien Assam Überflutungen

پہلی فہرست کے مطابق آسام میں قریب چویس ملین میں سے پانچ ملین باشندے بھارتی شہری نہیں ہیں

2005ء میں اس معاہدے پر کام دوبارہ شروع ہوا لیکن اس میں سست رفتاری کی وجہ سے یہ معاملہ 2013ء میں ملکی سپریم کورٹ میں پہنچ گیا۔ 2015ء میں اس عمل میں پھر تیزی آئی اور اس پورے عمل پر نگاہ رکھنے والی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 31 دسمبر2017ء تک اس کام کو مکمل کیا جائے۔1951ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آسام میں ایسے افراد کی شناخت کی جا رہی ہے، جو 25 مارچ 1971ء کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت میں داخل ہوئے تھے تاکہ انہیں بھارت سے نکالا جا سکے۔

چودہ سالہ بچی کو ریپ کرنے پر بھارتی رکن پارلیمان گرفتار

آسام میں حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا دعویٰ ہے کہ پورے بھارت میں قریب بیس ملین بنگلہ دیشی شہری غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان سدھانشو متل کا کہنا ہے، ’’غیرقانونی بنگلہ دیشی شہریوں کی وجہ سے آسام میں آبادی کا توازن بدل گیا ہے۔ کئی اضلاع مسلم اکثریتی علاقوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ این آر سی رجسٹر ایسے عناصرکی نشاندہی اور انہیں الگ تھلگ کرنے کے سمت ایک قدم ہے۔‘‘

آسام میں غیر ملکی شہریوں کے مسئلے کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم جمیعت علمائے ہند کے رہنماحافظ بشیر احمد قاسمی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم این آر سی کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل میں حکومت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں اور جن لوگوں کے نام پہلی فہرست میں شامل نہیں، انہیں خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

DW.COM