1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی ريلوے کی بہتری کے ليے ٹوکيو اور نئی دہلی کا اشتراک

جاپانی وزير اعظم شينزو آبے بھارت کے تين روزہ دورےپر ہيں۔ اس دورے میں جاپانی وزير اعظم اپنے بھارتی ہم منصب نريندر مودی کے ساتھ متعدد علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خيال کريں گے۔

شينزو آبے اور نريندر مودی جمعرات کے روز بھارت کی پہلی تيز رفتار بُلِٹ ٹرين سروس کے منصوبے کا افتتاح کريں گے۔ ماہرين کا ماننا ہے کہ بھارتی ريلوے نظام ميں جدت لانے کے ليے جاپانی اور بھارتی اشتراک، ملک کی کافی پرانی ريل گاڑيوں اور گنجائش سے زيادہ بوجھ جيسے مسائل کے حل کے ليے کليدی ثابت ہو گا۔ برطانوی دور سے چلے آ رہے بھارتی ريلوے نيٹ ورک کو يوميہ بنيادوں پر بائيس ملين مسافر استعال کرتے ہيں تاہم اسے دنيا کے خطرناک ترين نيٹ ورکس ميں بھی شمار کيا جاتا ہے۔ چند سال قبل جاری کردہ بھارتی حکومت کی ايک رپورٹ کے مطابق وہاں سالانہ بنيادوں پر قريب پندرہ ہزار اموات ريل گاڑيوں کے حادثات کے سبب ہوتی ہيں۔ 

شينزو آبے چودہ ستمبر کو احمدآباد ميں بلٹ ٹرين کے منصوبے کی بنياد رکھيں گے۔ ساڑھے تين سو کلوميٹر کی رفتار سے سفر کرنے والی يہ ٹرين گجرات اور ملک کے اقتصادی مرکز مانے جانے والے شہر ممبئی کے درميان چلے گی اور يوں آٹھ گھنٹوں کا سفر ساڑھے تين گھنٹوں ميں مکمل ہو جايا کرے گا۔ اس ٹرين کے نيٹ ورک کا منصوبہ گزشتہ برس طے کيا گيا تھا اور امکان ہے کہ سن 2023 تک يہ ٹرين فعال ہو جائے گی۔ ٹوکيو حکومت نے انيس بلين ڈالر لاگت والے اس منصوبے کے ليے قريب پچاسی فيصد رقوم قرضے کی صورت ميں مہيا کی ہيں۔

علاوہ ازيں جاپانی وزير اعظم شينزو آبے کے اس دورے کا ايک اور مقصد شمالی کوريائی تنازعے کے تناظر ميں اپنے بھارتی ہم منصب نريندر مودی کے ساتھ تبادلہ خيال اور ان کی حمايت حاصل کرنا ہے۔ ٹوکيو حکومت کے ترجمان کے مطابق اس دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاع کے علاوہ متعدد دیگر شعبوں ميں تعاون کو فروغ ديا جائے گا۔ بھارت ميں اس وقت پندرہ سو جاپانی کمپنياں سرگرم ہيں۔ اقتصادی ماہرين کو توقع ہے کہ جاپانی و بھارتی اشتراک سے شروع ہونے والا ٹرين کا يہ منصوبہ متعلقہ صنعت کو اسی طرح فروغ دے پائے گا، جس طرح کاريں بنانے والی جاپانی کمپنی سوزوکی بھارت ميں سرمایہ کاری ہزارہا ملازمتوں کے مواقع کا سبب بنی تھی۔