1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارتی راکٹ تین سیٹیلائٹس لے کر خلاء میں روانہ

تین سیٹیلائٹس کے ساتھ بھارت نے اپنا ایک راکٹ خلاء میں روانہ کیا ہے۔ یہ سیٹیلائٹس دو برسوں تک خلاء میں رہ کر جنگلات، گلیشیئرز اور زمین کے مختلف حصوں کی تصاویر بھیجیں گے۔

default

بھارت نے تین سیٹیلائٹس کے ساتھ ایک راکٹ خلاء میں روانہ کیا ہے۔ جنوب مشرقی بھارت میں سری ہریکوٹا کے ستیش دھاون خلائی مرکز کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق Polar Satellite Launch Vehicle(PSLV)-16 نامی اس راکٹ کی روانگی میں کسی قسم کو ئی کی رکاوٹ نہیں آئی۔ جیسے ہی راکٹ سے تینوں سٹیلائٹس جدا ہوئے تو بھارتی خلائی ایجنسی کے چیئرمین رادھا کرشنن نے بتایا کہ ’’ انہیں بہت ہی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ PSLV-16 کا تجربہ کامیاب رہا‘‘۔ راکٹ سے مصنوعی سیاروں کے جدا ہونےکا عمل زمین سے 822 کلومیٹر کی بلندی پر مکمل ہوا۔

Resourcesat-2 سیریز کا ایک مصنوعی سیارہ بھارت میں تیار کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس میں کینیڈا کی ایرو اسپیس کمپنی کوم دیو کے تیار کردہ کچھ پرزےبھی شامل ہیں۔ یہ مصنوعی سیارے دو سال تک خلاء میں رہیں گے اور اس دوران وہ جنگلات، گلیشیئرز اور زمین کے ایسے حصوں کی تصاویر بھیجیں گے، جن سے زراعتی شعبے کو مدد حاصل ہو گی۔

Symbolbild Satellit DLR ZKI Disaster Management Tool

راکٹ سے مصنوعی سیاروں کے جدا ہونےکا عمل زمین سے 822 کلومیٹر کی بلندی پر مکمل ہوا

بھارت مسلسل خلائی ریسرچ میں مصروف ہے اور اس کی کوشش ہے کہ خلائی تحقیق پر بھی بیرونی دنیا کا انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ پروگرام سن 1963ء میں شروع کیا گیا تھا۔ بھارتی خلائی پروگرام دوسرے ملکوں کے سیٹلائٹ بھی کمرشل بنیادوں پر خلا میں پہنچا رہا ہے۔ 2007 ء میں اس نے ایک اطالوی اور سن 2008 میں ایک اسرائیلی جاسوس سیٹیلائٹ کو ایک کاروباری سودے کے تحت کامیابی سے خلا میں پہنچایا تھا۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

راکٹ کا وزن تقریباً 14سوکلو گرام ہے۔ اس راکٹ کے ساتھ 92 کلو وزنی روس اور بھارت کا مشترکہ طور پر تیار کردہ ایک سیٹیلائٹ بھی خلاء میں بھیجا گیا ہے۔ Youthsat نامی یہ سیٹیلائٹ ماحولیات کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ اس کے علاوہ خلاء میں روانہ ہونے والا تیسرے سیٹیلائٹ X-sat کو سنگاپور کی ننیانگ یونیورسٹی نے تیار کیا ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : کشور مصطٰفی

DW.COM

ویب لنکس