1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

بھارتی خواتین کی کینسر کے خلاف جنگ سینیٹری پیڈز کی مدد سے

بھارت جیسے ملک میں جہاں خواتین کے مخصوص ایام کے خون کو کالا جادو کرنے کا ذریعہ خیال کیا جاتا ہے، اب چند محققین  نے دیہی علاقوں میں خواتین کو  سروائیکل کینسر کے ٹیسٹ کے لیے سینیٹری پیڈز استعمال کرنے پر قائل کیا ہے۔

بھارت کا شمار دنیا بھر میں خواتین میں بچہ دانی کے نچلے حصے کے کینسر کے کیسز کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ یہاں ہر پندرہ منٹ پر دو خواتین اس سرطان کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور ہر چار منٹ پر سروائیکل کینسر کا ایک نیا کیس سامنے آتا ہے۔

سروائیکل کینسر خواتین میں پایا جانے والا ایک طرح کا سرطان ہے جو رحم مادر کے شروع کے حصے میں ہوتا ہے، جس کی  تشخیص اگر ابتدا ہی میں کر لی جائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بھارت میں خواتین، خصوصاﹰ دیہاتوں میں رہنے والی عورتیں سماجی پابندیوں کی وجہ اس کینسر کی اسکریننگ کے لیے ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتیں۔ کچھ تو شرم و حیا کے مارے اس عمل سے گزرنا ہی نہیں چاہتیں۔ اب بھارت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے ری پروڈکٹیو ہیلتھ اور ٹاٹا میموریل سینٹر کے ریسرچرز کو امید ہو چلی ہے کہ اس صورت حال میں تبدیلی آئے گی۔

 یہ محققین ایک پروجیکٹ کے تحت خواتین سے اُن کے استعمال شدہ سینیٹری پیڈز جمع کر کے ان سے ملنے والے خون کے ذرات کی سروائیکل کینسر کے لیے جانچ کرواتے ہیں۔ اگر اس خون میں ’ہیومن پیپیلوما وائرس‘ یا ایچ پی وی کی موجودگی کا پتہ لگے تو ایسی خاتون کو رحم کا سرطان ہو سکتا ہے۔

اس منصوبے کے مرکزی محقق اتُل بودُخ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ آئیڈیا یہ تھا کہ کچھ ایسا کیا جائے جو بھارت کی دیہی خواتین کے لیے مفید ہو۔ گاؤں دیہاتوں میں رہنے والی خواتین حیض کے ایام میں پرانے کپڑوں کے پیڈ استعمال کرتی ہیں اور اسی طرح کھیتوں میں کام کرنے چلی جاتی ہیں۔ یہ عورتیں یومیہ  ڈھائی سو سے تین سو انڈین روپے کماتی ہیں اور ڈرتی ہیں کہ اگر وہ کینسر کے ٹسٹ کے لیے گئیں تو اُن کے پیسے ختم ہو جائیں گے۔‘‘ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر دس بھارتی خواتین میں سے صرف ایک بازار میں ملنے والے کمرشل سینیٹری پیڈز استعمال کرتی ہیں۔

بھارت میں حیض کے تصور کے ساتھ بہت سی داستانیں اور توہمات بھی وابستہ ہیں۔ حیض کے خون کو کالے جادو کے لیے کارآمد قرار دیا جاتا ہے۔ ایک مقامی ہیلتھ ورکر خاتون سنگیتا کولی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ جن خواتین سے ٹسٹ کے لیے سینیٹری پیڈز اکٹھے کیے گئے اُنہیں فکر تھی کہ کہیں ان پیڈز کو کالے جادو یا ایسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ پیڈز کو صرف ریسرچ کے لیے ہی استعمال کیا جائے گا۔‘‘

بھارت میں عام طور پر خواتین کے ایام مخصوصہ پر بات نہیں کی جاتی۔ بہت سی خواتین کو اس دوران ’ناپاک‘ قرار دیتے ہوئے انہیں بچوں سے دور رہنے، غسل نہ کرنے اور باورچی خانے میں نہ جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حیض کے دنوں میں خواتین مندروں میں جانے اور عبادت کرنے سے بھی قاصر ہوتی ہیں۔

 

DW.COM