1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بھارتی خلائی ادارے میں ماہر سائنسدانوں کی قلت

بھارت کا قومی خلائی ادارہ اپنے تجربہ کار سائنسدانوں کی جانب سے ملازمتیں چھوڑ کر چلے جانے کی پریشانی میں مبتلا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سائنسدانوں کو پرائیویٹ سیکٹر سے پرکشش تنخواہوں کی پیشکش ہے۔

default

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO)کے سائنسدان مسلسل اپنی نوکریوں کو خیرباد کہہ کر دوسرے اداروں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں بھارتی خلائی ادارےکی انتظامیہ نے ناتجربہ کار اور فریش گریجویٹ کو ملازمتیں دینے کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ ادارے میں مجموعی صورت حال پریشان کن بتائی جاتی ہے۔ اِس صورت حال کی گونج بھارتی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔

بھارتی خلائی ادارے نے گزشتہ سال 354 سائنسدانوں کو ملازمتوں کی پیشکش کی تھی۔ اُن میں سے صرف 167 تجربہ حاصل کرنے والے باقی رہ گئے ہیں۔ 184 سائنسدانوں نے بنیادی تربیتی عمل مکمل کرنے کے بعد ادارے کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ اس طرح 53 فیصد سائنسدانوں نے بھارتی خلائی ادارے کو ایک سال پہلے جوائن کر کے چھوڑ دیا ہے۔

ایسے ہی اعدادوشمار کے مطابق سن 2004 اور سن 2005 میں بھی بالترتیب 105 اور 100 افراد نے خلائی ادارے کی ملازمت کو ختم کرتے ہوئے نجی سیکٹر میں ملازمتیں شروع کردیں۔ گزشتہ 36 ماہ کے دوران بھارت کے قومی خلائی ادارے کے 392 سائنسدان ملازمت چھوڑ چکے ہیں۔ اِن اعدادوشمارکو دیکھا جائے تو ہر ماہ گیارہ سائنسدان خلائی ادارے کی نوکری کو ترک کر رہے ہیں۔

BdT Weltraummüll

بھارتی خلائی ادارے کے سائنسدان بہتر مراعات کی پیش کش پر ملازمتیں چھوڑ رہے ہیں

یہ اعداد وشمار بدھ کو بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے۔ بھارتی وزیر پرتھوی چوہان نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ نجی شعبے کی جانب سے بہتر تنخواہوں کا پیکیج سائنسدانوں کے ملازمت چھوڑنے کی بنیادی وجہ ہے۔ پرتھوی چوہان کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلاتی شعبے میں ایسے ریسرچر کی بہت زیادہ کھپت ہو رہی ہے۔ اِس سیکٹر میں ملازمت حاصل کرنے والے سائنسدانوں کو قومی ادارے کے مقابلے میں تنخواہیں اور دیگر مراعات کی بہتر پیشکش کی جاتی ہے۔

بھارتی خلائی ادارے کی طرح دوسرے سائنسی تحقیقی اداروں میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ شعبہ جوہری توانائی اور دفاعی تحقیقی ترقیاتی آرگنائزیشن کو بھی حالیہ برسوں میں ایسے ہی مسئلے کا سامنا ہے۔ حکومتی تنخواہوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے نوجوان اور تجربہ کار سائنسدان دوسرے اداروں یا بیرون ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM