1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی خاتون کا ’آٹھ سال تک ریپ کرنے والے‘ پنڈت سے انتقام

بھارتی ریاست کیرالا میں ایک خاتون نے ایک ایسے ہندو پنڈت کو ’نامرد‘ بنا دیا، جو کئی سال تک اسے ریپ کرتا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق جنسی زیادتی کی ایک نئی کوشش کے دوران اس خاتون نے اس ہندو مذہبی شخصیت کے مردانہ اعضاء کاٹ دیے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے آمدہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق پولیس نے آج ہفتہ بیس مئی کے روز بتایا کہ جنوبی بھارتی ریاست کیرالا میں اپنے دفاع میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والی خاتون کی عمر 23 برس ہے اور اس کے بقول 54 سالہ پنڈت گزشتہ آٹھ سال سے بار بار اسے ریپ کرتا رہا تھا۔

ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ اس واقعے کے بعد، جو جمعہ انیس مئی کو رات گئے پیش آیا، زخمی پنڈت کو علاج کے لیے کیرالا کے ریاستی دارالحکومت تھیروواننتھاپورم کے ایک ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ اس خاتون نے پولیس کو بتایا کہ یہ ہندو مذہبی شخصیت گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدگی سے اس کے گھر آتی رہی تھی، جس کا مقصد اس خاتون کے فالج زدہ والد کی صحت یابی کے لیے دعا کرنا ہوتا تھا۔ لیکن ہر بار یہ پنڈت مبینہ طور پر اس خاتون کو ریپ کرتا رہا۔

صوبائی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر جی ایس کمار نے صحافیوں کو بتایا، ’’اس خاتون کے مطابق اس پنڈت نے اسے اس کے گھر پر ایک بار پھر ریپ کرنے کی کوشش کی، جس پر اس نے چاقو کے ساتھ اس جنسی مجرم پر جوابی حملہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد یہ خاتون اپنے گھر سے قریبی پولیس اسٹیشن آ گئی، جہاں اس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا۔‘‘

بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق جنسی حملوں کے اس طویل سلسلے کے مبینہ ملزم کا ہسپتال میں ڈاکٹروں نے فوری طور پر آپریشن کرنے کی کوشش کی تاہم ڈاکٹر اپنی کوشش میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ اس واقعے میں مبینہ ملزم کے مردانہ اعضاء قریب 90 فیصد تک کاٹ دیے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس نے ہسپتال ہی میں پولیس کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنا مردانہ عضو خود ہی کاٹ دیا تھا۔

ڈی پی اے کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا پولیس مشتبہ ملزم پر جسمانی حملہ اور اسے زخمی کرنے والی اس خاتون کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی شروع کرے گی۔ تاہم جنسی جرائم کے خلاف سرگرم کارکنوں، انسانی اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں اور کئی سیاستدانوں نے اس واقعے کے بعد اس خاتون کو ایک ’بہادر عورت‘ قرار دیا ہے۔

بھارتی ریاست کیرالا کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجیئین نے اس واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس خاتون نے بڑی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑا کام کیا ہے۔‘‘

DW.COM