1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی حکومت کی ساکھ میں تیزی سے کمی، نیا سروے

ایک نئے سروے کے ہفتہ تین ستمبر کو جاری کیے جانے والے نتائج کے مطابق بدعنوانی، افراط زرکی انتہائی بلند شرح اور سست رفتار معیشت کی وجہ سے دباؤ کی شکار بھارتی مخلوط حکومت کی ساکھ تیزی سے کم ہوئی ہے۔

default

یہ سروے اُس وقت کیا گیا تھا، جب 74 سالہ سماجی کارکن انا ہزارے نے گزشتہ اختتام ہفتہ پر بدعنوانی کے خلاف اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔ کانگریس پارٹی کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت ہرگز یہ توقع نہیں کر رہی تھی کہ انا ہزارے کی تحریک کو اس قدر عوامی حمایت حاصل ہو گی۔

اسٹار نیوز نیلسن سروے کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ اگر اب عام انتخابات منعقد ہوں تو بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کو ملک بھر کے رائے دہندگان میں سے 32 فیصد کی حمایت حاصل ہو گی۔

اس سروے کے لیے 28 شہروں میں 8926 افراد سے بات چیت کی گئی۔ اِس سروے کے صرف 20 فیصد شرکاء نے یہ کہا کہ وہ اپنا ووٹ 78 سالہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں سرگرم عمل کانگریس پارٹی کو دیں گے۔ سروے کے باقی  شرکاء نے یا تو علاقائی جماعتوں کے حق میں رائے دی یا یہ کہا کہ ابھی وہ یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اپنا ووٹ کسے دیں گے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوزیشن کو مستحکم بنانے میں بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ پارلیمان میں بی جے پی کی مجموعی نشستوں کی تعداد صرف 115 ہے جبکہ کانگریس پارٹی کو 207 نشستیں حاصل ہیں۔

سوائے جنوبی بھارت کے ملک کے تمام علاقوں میں بی جے پی کو پسندیدہ جماعت قرار دیا گیا جبکہ جنوبی بھارت میں کانگریس پارٹی کا پلا معمولی فرق سے بھاری رہا۔

2004ء میں اقتدار کے ایوانوں میں لوٹنے والی کانگریس پارٹی کو 2014ء کے اگلے عام انتخابات سے پہلے آئندہ برس اُتر پردیش اسمبلی کے ریاستی انتخابات کی صورت میں بھی ایک آزمائش کا سامنا ہے۔

تازہ سروے کے نتائج اِسی ادارے اسٹار نیوز نیلسن کے مئی میں یعنی انا ہزارے کی تحریک کے بھرپور انداز میں سامنے آنے سے پہلے کیے گئے اسی طرح کے ایک اور سروے کے نتائج سے بالکل مختلف ہیں۔ تب 30 فیصد رائے دہندگان نے کانگریس پارٹی کی جبکہ صرف 23 فیصد نے بی جے پی کی حمایت کی تھی۔

No Flash Anna Hazare

انا ہزارے

انا ہزارے نے اپنی بھوک ہڑتال تب ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جب پارلیمان میں ایک بحث کے بعد عوامی نمائندوں کی جانب سے اُنہیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ اُن کی شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف زیادہ سخت قوانین متعارف کروائے جائیں گے۔ ابھی جمعہ کو انا ہزارے نے کہا کہ وہ بد عنوانی کے خلاف اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے اور آخری وقت تک لڑیں گے۔

مئی کے سروے کے شرکاء کی ایک بڑی تعداد نے ملک کے آئندہ وزیر ا عظم کے طور پر کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی کو اپنا فیورٹ قرار دیا تھا۔ تازہ سروے میں جب شرکاء کے سامنے انا ہزارے اور راہول گاندھی میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے کہا گیا تو 78 فیصد نے ہزارے کی جبکہ صرف 17 فیصد نے راہول گاندھی کی حمایت کی۔

 

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات