1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارتی حکومت کا طرز عمل حیران کن، اقوام متحدہ کے ماہرین

اقوام متحدہ کے ماہرین نے نئی دہلی حکومت سے فلاحی تنظیموں کے لیے غیر ملکی امداد کے قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان ماہرین نے بھارتی حکومت کے طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ متعدد امدادی اور خیراتی تنظیموں نے امداد کی مد میں ملنے والی رقوم کی تفصیلات پوشیدہ رکھتے ہوئے بیرون ملک سے مالی عطیات سے متعلق ضوابط (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزی کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق انہیں حیرت ہے کہ نئی دہلی حکومت کس طرح تنقید سے بچنے کے لیے ان قوانین پر عمل کر رہی ہے۔ اس عالمی ادارے کے مشیل فورسٹ، ڈیوڈ کین اور مائنا کیئائی نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ہم اس بارے میں فکر مند ہیں کہ کس طرح نئی دہلی حکومت (ایف سی آر اے) قانون کو ایسی تنظیموں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، جن کی ترجیحات شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی، تحفظ ماحول اور ثقافتی شعبے ہیں اور جو حکومتی تنظیموں سے مختلف انداز میں کام کر رہی ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق گرین پیس انڈیا، لائرز کولیکٹیو اور سبرنگ ٹرسٹ کے اجازت نامے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ گرین پیس جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال اور کوئلے کی کان کنی کے خلاف کام کر رہی تھی جبکہ لائرز کولیکٹیو اقلیتوں پر جنسی حملوں اور ان کے حقوق سے متعلق اور سبرنگ ٹرسٹ ٹیسٹا سیتالود (Teesta Setalvad) چلا رہی ہیں۔ ان کا شمار مودی کے ناقدین میں ہوتا ہے۔

دو سال قبل نریندر مودی نے ملکی وزیر اعظم بننے کے ساتھ ہی غیر ملکی چندے سے چلنے والی فلاحی تنظیموں کی نگرانی سخت کر دی تھی۔ بھارت میں بیرون ملک سے امداد وصول کرنے کے جو اجازت نامے تھے، وہ 2014ء سے یا تو منسوخ ہیں یا پھر انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے ان تنظیموں کو اپنے اخراجات پورے کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، جس سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تنظیمیں صحت اور تحفظ ماحول کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔

بھارت میں فلاحی اور امدادی تنظیموں کی اصل تعداد کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ 2013ء میں بھارتی وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 43,500 گروپ ایسے ہیں، جن کا غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والے فلاحی اداروں کے طور پر انداراج ہواتھا۔ تاہم ان میں سے نصف سے کچھ کم تنظیمیں ہی ایسی ہیں، جو حکام کو اپنی مکمل تنظیمی اور مالیاتی تفصیلات سے آگاہ کرتی ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات