بھارتی جیمز بانڈ کی فلم پر پاکستان میں پابندی | فن و ثقافت | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بھارتی جیمز بانڈ کی فلم پر پاکستان میں پابندی

بھارت میں جیمز بانڈ کی فلموں کی طرز پر بنائی گئی فلم ’ایجنٹ ونود‘ کا ہیرو اپنے ملک کو ایٹمی تباہی سے تو بچا سکتا ہے مگر یہ بات اس کے بس میں نہیں کہ اس کی فلم ہمسایہ ملک پاکستان کے سینیما گھروں میں دکھائی جا سکے۔

default

’ایجنٹ ونود‘ بھارت میں جیمز بانڈ سلسلے کی مشہور زمانہ فلموں کی طرز پر بنائی جانے والی پہلی فلم ہے۔ اس فلم کا ہیرو ہیلی کاپٹر اڑاتے ہوئے ایک بڑے بم کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔ وہ اتنا پھرتیلا ہے کہ دشمنوں کی طرف سے فائرنگ کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے بھی بچا رہے۔ وہ اپنے وطن بھارت کو ممکنہ ایٹمی تباہی سے بھی بچا سکتا ہے۔ مگر یہ کارنامہ اس کے لیے ناممکن ہے کہ پاکستانی شائقین اپنے ہی ملک کے سینما گھروں میں اس کی فلم دیکھ سکیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے اس بھارتی فلم کے پروگرام کے مطابق ریلیز ہونے سے چند روز پہلے ’ایجنٹ ونود‘ پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس فلم میں پاکستانی فوج کے جرنیلوں اور جاسوسوں کے کردار منفی اور تنقیدی انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

Flash-Galerie erfolgreichste und beliebteste Filme 2011


اس کمرشل فلم میں پاکستانی جرنیلوں اور جاسوسوں کو افغانستان میں طالبان کی مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس فلم میں ایسے پاکستانی اہلکار یہ منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پر ایک سوٹ کیس میں بند ایٹم بم سے حملہ کر دیا جائے۔
اس بھارتی فلم پر پاکستان میں پابندی لگانے کا فیصلہ پاکستانی فلم سنسر پورڈ نے کیا۔ اس بورڈ کے وائس چیئرمین محمد اشرف گوندل نے آج پیر کو خبر ایجنسی اے پی کو بتایا، ’ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ اس فلم کو پاکستان میں اسکریننگ کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ یہ فلم پاکستانی سنسر بورڈ کے ضابطوں کی نفی کے زمرے میں اتی ہے۔‘ محمد اشرف گوندل نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
‘ایجنٹ ونود‘ کی لاہور اور کراچی میں ریلیز گزشتہ ہفتے ہونا تھی۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اس میں پاکستان پر حقیقی تنقید کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس فلم میں بھی فلم سازی میں کی جانے والی اس بھارتی مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے جو بالی ووڈ کی کامیاب فلم انڈسٹری کی خصوصیت ہے۔

Saif Ali Khan Schauspieler Bollywood Indien

سیف علی خان کہتے ہیں، ‘یہ فلم بھارتی شائقین کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ پاکستانیوں کے خلاف نہیں ہے۔‘


اس فلم کے شریک پروڈیوسر اور مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار سیف علی خان کہتے ہیں، ‘یہ فلم بھارتی شائقین کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ پاکستانیوں کے خلاف نہیں ہے۔‘ سیف علی خان نے انڈو ایشین نیوز سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستانی اس فلم پر اپ سیٹ ہیں تو یہ قابل فہم بات ہے کیونکہ اس فلم میں انہیں کئی مرتبہ بھارتیوں کے ہاتھوں پٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ایک فلمی کردار کے طور پر ایجنٹ ونود کو بھارتی جیمز بانڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فلم میں وہ بھارتی خفیہ ادارے ‘را‘ کا ایک جاسوس ہے جس کا مقابلہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ہے۔
پاکستان کی طرف سے حالیہ برسوں میں کسی بھارتی فلم کی اپنے ہاں نمائش پر پابندی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے سن 2010 میں اسامہ بن لادن کے بارے میں بنائی گئی ایک بھارتی کامیڈی فلم پر بھی پاکستان میں پابندی لگا دی گئی تھی۔
رپورٹ : عصمت جبیں
ادارت: کشور مصطفیٰ