1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بھارتی تاجر حکومت سے نالاں

بھارت میں قائم بڑی بڑی کمپنیوں کی تین چوتھائی تعداد موجودہ حکومت سےشاکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ان کمپنیوں کو شکوہ ہے کہ موہن سنگھ حکومت نہ صرف بدعنوانی بلکہ پالیسیوں کے حوالے سے بھی بد انتظامی کا شکار ہے۔

منموہن سنگھ

منموہن سنگھ

یہ سروے مشترکہ طور پر اکنامک ٹائمز Economic Times نامی اخبار اور ’فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ (FICCI) کی طرف سے کروایا گیا۔ ملک کی 75 اہم ترین کمپنیوں کی رائے کے اس سروے کے نتائج آج پیر 13 جون کو شائع کیے گئے ہیں۔ سروے کے مطابق 80 فیصد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے اور 72 فیصد کو یقین ہے کہ اس سے سرمایہ کاری کے منصوبے متاثر ہوں گے۔

اکنامک ٹائمز نے FICCI کے صدر Harsh Mariwala کے حوالے سے لکھا ہے: ’’ ملکی سرمایہ کاروں میں موجود منفی احساسات کے سبب غیرملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔‘‘

اس کے علاوہ آج پیر ہی کے دن ایک اور سروے کے نتائج بھی شائع ہوئے ہیں جو اکنامک ٹائمز اور Synovate نامی فرم کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اس سروے میں 43 اہم کمپنیوں کے سربراہان سے سوالات کیے گئے۔ اس سروے میں 63 فیصد سربراہان کا کہنا تھا کہ حکومتی بد انتظامی کے باعث بھارت کی ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔

کانگریس پارٹی کی مخلوط حکومت کے دوران منظر عام پر آنے والے ٹیلی کام اسکینڈل میں اطلاعات کے مطابق ملکی خزانے کو 39 بلین امریکی ڈالرز کا نقصان پہنچایا گیا۔ اس اسکینڈل کے حوالے سے ناکافی حکومتی اقدامات دراصل ملکی کمپنیوں کے لیے بے چینی کا باعث بن رہے ہیں۔

بھارتی ارب پتی انیل امبانی کو ٹیلی کام اسکینڈل کے سلسلے میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا

بھارتی ارب پتی انیل امبانی کو ٹیلی کام اسکینڈل کے سلسلے میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا

اس اسکینڈل کے سلسلے میں مواصلات کے سابق وزیر اے راجہ سمیت کئی دیگر اہم عہدیداروں کو جیل جانا پڑا جبکہ انیل امبانی اور پرشانت روئیا جیسے بھارتی ارب پتیوں کو بھی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا، جس سے بھارتی تجارتی شعبے کو ایک دھچکہ پہنچا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔

بھارتی پارلیمان میں گزشتہ تین شیشنز کے دوران اہم اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے احتجاج کی بدولت حکومت کی طرف سے قانون سازی کی کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں ہوسکی، سوائے چند ایک اصلاحاتی قوانین کے جن کے مطابق انڈسٹری کے لیے زمین حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا گیا ہے۔

رواں برس جنوری میں بھارتی مرکزی بینک کے بعض سابق گورنروں اور اہم صنعت کاروں پر مشتمل 14 افراد کے ایک گروپ نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں خبردار کیا تھا کہ بدعنوانی اور بدانتظامی بھارتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس